لاہور میں ’مریم نواز اسپورٹس سٹی‘ کے منصوبے میں پیشرفت، عالمی معیار کی سہولیات ایک ہی مقام پر

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب حکومت نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لاہور میں ’مریم نواز اسپورٹس سٹی‘ کے قیام کے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کھیلوں کا انقلاب: مریم نواز کا اسپورٹس سٹی بنانے اور 2026 کو یوتھ کا سال قرار دینے کا اعلان

منصوبے کا مقصد عالمی معیار کی کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا اور بین الاقوامی معیار کا جدید اسپورٹس کمپلیکس قائم کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت لاہور میں تقریباً 300 ایکڑ رقبے پر اربوں روپے کی لاگت سے ایک جدید، مربوط اور عالمی معیار کا اسپورٹس سٹی تعمیر کیا جائے گا۔

فزیبلٹی اسٹڈی کے دوران منصوبے کی مجموعی لاگت، مالیاتی پائیداری، تکنیکی ضروریات، ماحولیاتی اثرات اور دیگر اہم پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کی بنیاد پر منصوبے پر عملدرآمد سے متعلق مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیے: کھیلوں کے فروغ سے متعلق مریم نواز کا کیا ویژن ہے؟ وزیر کھیل نے بتادیا

اس مرحلے میں مجوزہ مقام کا تفصیلی سروے بھی کیا جائے گا، جس میں زمین کی دستیابی، رسائی، جغرافیائی صورتحال، ٹریفک پر ممکنہ اثرات، جیو ٹیکنیکل تحقیقات، یوٹیلیٹی سسٹمز، ماحولیاتی اور سماجی اثرات سمیت تمام تکنیکی معاملات کا جائزہ شامل ہوگا۔

اسپورٹس سٹی میں کیا کچھ ہوگا؟

مجوزہ ماسٹر پلان کے مطابق اسپورٹس سٹی میں عالمی معیار کی مختلف کھیلوں کی سہولیات قائم کی جائیں گی جن میں ملٹی پرپز آؤٹ ڈور اسٹیڈیم، ملٹی اسپورٹس انڈور کمپلیکس، اولمپک معیار کا سوئمنگ ایرینا، ویلوڈروم، اسکواش ایرینا، لان ٹینس، پیڈل ٹینس اور فٹبال کورٹس شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیں: زمانہ طالب علمی میں بیس بال ٹیم کی کپتان تھی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

اس کے علاوہ تیر اندازی کمپلیکس، ملٹی پرپز اسپورٹس گراؤنڈ، اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ، کھلاڑیوں کے ہاسٹل، انتظامی دفاتر، کمرشل ایریاز، ریسٹورنٹس، وسیع پارکنگ، جدید سڑکوں کا جال، لینڈ اسکیپنگ، یوٹیلیٹیز اور دیگر عوامی سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔

لاہور میں پہلے سے کون سی اسپورٹس سہولیات موجود ہیں؟

لاہور میں اس وقت بھی متعدد بڑے اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم موجود ہیں جن میں نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس، جوہر ٹاؤن ایل ڈی اے اسپورٹس کمپلیکس، گلبرگ اسپورٹس کمپلیکس، سبززار اسپورٹس ارینا، تاجپورہ اسپورٹس کمپلیکس، ای ایم ای کینال ویسٹ اسپورٹس کمپلیکس اور سمن آباد سپورٹس ارینا شامل ہیں۔

ان مراکز میں جمنازیم، سوئمنگ پول، اسکواش، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، اسنوکر، باسکٹ بال، لان ٹینس سمیت مختلف انڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کی سہولیات پہلے ہی دستیاب ہیں۔

پنجاب حکومت کے مطابق مجوزہ مریم نواز سپورٹس سٹی لاہور اور صوبے کے موجودہ کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تربیت، جدید سہولیات اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں کھیلوں کا انقلاب: مریم نواز کا اسپورٹس سٹی بنانے اور 2026 کو یوتھ کا سال قرار دینے کا اعلان

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف پنجاب میں کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دے گا بلکہ نوجوان نسل کو صحت مند، فعال اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ شفاف رہا، مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل، عطا اللہ تارڑ

سپریم کورٹ کا پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر مکمل طور پر فعال، سائلین کو 23 ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی

مالی سال 26-2025 میں وفاقی ترقیاتی پروگرام پر ریکارڈ خرچ، ریلوے اور آبی وسائل کے شعبے سرفہرست

آزاد کشمیر انتخابات: عوام نے ووٹ کے ذریعے انتشار کی سیاست مسترد کر دی

پاکستان ٹیکسٹائل صنعت نے مزدوروں کے حقوق اور عالمی معیار پر عملدرآمد سے متعلق الزامات مسترد کر دیے

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: ن لیگ نے 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر برتری حاصل کرلی، پیپلز پارٹی 4 پر کامیاب

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی