وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہر شہری کو ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ اور معیاری علاج تک رسائی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ اس مرض کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں عالمی یومِ انسدادِ ہیپاٹائٹس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر تیسرے فرد کو ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے کا خطرہ تشویشناک ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی یومِ ہیپاٹائٹس: صدر اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس قابلِ علاج مرض ہے، تاہم بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ لیور کینسر کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جبکہ بروقت اسکریننگ اور علاج سے ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر اقدامات جاری ہیں اور پروفیسر سعید اختر سمیت متعلقہ ماہرین کے تعاون سے ایک مؤثر نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہیپاٹائٹس کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کو قومی ترجیح کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ قومی معاملات میں زیادہ ذمہ داری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس کرتے ہوئے مؤثر اونرشپ لینی چاہیے اور اہم تقریبات و ہنگامی انتظامات کے لیے پیشگی تیاری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ہیپاٹائٹس بی اور سی کا علاج کتنا مشکل ہے؟ جانیں اس مرض کی علامات، وجوہات، علاج، اور تشخیص
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں امور منصوبہ بندی کے تحت انجام دیے جاتے ہیں، پاکستان میں بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی انتظامی کوتاہیاں بھی پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتی ہیں، اس لیے ان کی تنقید کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کی بہتری کے لیے ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔














