ستمبر میں نئی صنعتی پالیسی، نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، ہارون اختر

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کے استحکام، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر غیر ضروری ریگولیشنز ختم کیے جا رہے ہیں اور ریگولیٹری اصلاحات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ستمبر میں نئی صنعتی پالیسی متعارف کرائی جائے گی، جبکہ نئی ٹیرف پالیسی کے تحت صنعتوں کو خام مال اور مشینری کم قیمت پر دستیاب ہوگی۔

مزید پڑھیں:صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزرا کو ملے تحائف توشہ خانے میں جمع، تفصیلات جاری

ہارون اختر نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی گئی ہے اور صنعتی شعبے کو مزید ریلیف دینے کی کوشش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی کا اجرا ہو چکا ہے، جبکہ نئی آٹو پالیسی آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں متعارف کرائی جائے گی، جس میں کمپنیوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سولر ٹیکنالوجی سستی ہونے سے پاکستان میں سولر انقلاب آیا ہے اور مہنگی بجلی کے باعث گھریلو، زرعی اور دیہی علاقوں میں سولر توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ حکومت سولر آلات اور بیٹری سیلز کی مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں لا رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے ڈیڑھ سو سے زائد کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کیے جا چکے ہیں۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور نئی پالیسی کے تحت مزید پرزے پاکستان میں تیار کیے جائیں گے۔ زرعی مشینری کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے بھی نئی پالیسی لائی جا رہی ہے، جبکہ وزیراعظم صنعتی اور زرعی پالیسیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے کولیٹرل فری فنانسنگ اور ورکنگ کیپیٹل تک رسائی آسان بنائی جا رہی ہے۔ ایکسپورٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، اسی لیے بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکس کا بڑا مسئلہ ختم کر دیا گیا، ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی حد ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین روپے کر دی گئی ہے اور طویل مدتی فنانسنگ اسکیم بھی متعارف کرا دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن، رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے پر مزید مراعات دی جائیں گی، جبکہ 50 کروڑ روپے سے کم آمدنی والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس اور ایکسپورٹ سیکٹر پر عائد ڈبل ٹیکسیشن بھی ختم کر دی گئی ہے۔

ہارون اختر نے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 600 سے زائد مفاہمتی معاہدے اور سرمایہ کاری کے اعلانات ہوئے ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف خود غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں کی پیشرفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp