وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور رواں سال ملک میں معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے ٹیکس نظام میں جاری اصلاحات اور بہتری کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کاروباری برادری کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور کہا کہ انہیں پیداوار بڑھانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، سفارتی امور پر تبادلہ خیال
ایف بی آر کے کردار کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ قائم ہو سکے اور ان کے مسائل کو بلاتاخیر حل کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کا حتمی مقصد کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا، اور ٹیکس کے نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھ سکے۔
ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن، رواں سال ترقی کا سال ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف
ایف بی آر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ “پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور رواں سال ملک میں معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا۔”@KulAalam pic.twitter.com/0CyAS382LT— Media Talk (@mediatalk922) July 15, 2026
اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے وزیراعظم کو کارکردگی اور جاری اصلاحات کے نفاذ پر بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کامیابی سے نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعتوں میں اس نظام کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں: کم آمدنی والے طبقے کے لیے سستے گھروں اور ہاؤس فنانس میں اصلاحات پر زور دیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف
پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری میں 42 بلین روپے، سیمنٹ انڈسٹری میں 38 بلین روپے، اور بیوریجز انڈسٹری میں 15 بلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا ہوا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔













