ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہڈیاں مضبوط بنانے کے لیے صرف دودھ پینا ہی کافی نہیں بلکہ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور چند اہم غذائی اجزا کا باقاعدہ استعمال زندگی بھر ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صحت بخش غذا کھانے کے لیے خود کو دھوکا دینے کے چند آسان طریقے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کی مضبوطی بچپن اور نوجوانی میں بننے والے ’بون بینک‘ پر منحصر ہوتی ہے اس لیے صحت مند غذا کی عادت کم عمری سے اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق ہڈیوں کی کثافت ابتدائی جوانی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچتی ہے جس کے بعد عمر بڑھنے کے ساتھ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر اس دوران مناسب غذائیت اور ورزش کا خیال نہ رکھا جائے تو بعد کی عمر میں ہڈیاں کمزور ہونے، ٹوٹنے اور آسٹیوپوروسس جیسے مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عالمی سطح پر تقریباً 50 کروڑ افراد آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں جبکہ ہر سال 55 سال سے زائد عمر کے افراد میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے ایک کروڑ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد 60 سال سے زائد عمر کے تقریباً 30 فیصد مریض ایک سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں اگرچہ اس میں عمر اور دیگر بیماریوں کا بھی کردار ہوتا ہے۔

خواتین میں خطرہ زیادہ، لیکن مرد بھی محفوظ نہیں

تحقیق کے مطابق خواتین خصوصاً سنِ یاس کے بعد ہڈیوں کی کثافت تیزی سے کھونے لگتی ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں۔ پہلے آسٹیوپوروسس کو زیادہ تر خواتین کی بیماری سمجھا جاتا تھا لیکن اب مردوں کی اوسط عمر بڑھنے کے باعث ان میں بھی یہ مرض زیادہ سامنے آ رہا ہے۔

ہڈیوں کے لیے کون سے غذائی اجزا ضروری ہیں؟

ماہرین کے مطابق کیلشیم، وٹامن ڈی اور پروٹین ہڈیوں کی صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جبکہ وٹامن کے، میگنیشیم، زنک اور فاسفورس بھی ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

دودھ، دہی اور پنیر

دودھ اور دیگر دودھ سے بنی اشیا کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہیں۔ تقریباً 200 ملی لیٹر دودھ میں 260 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟

ایک بڑی تحقیق میں 7 ہزار سے زائد بزرگ افراد کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ زیادہ مقدار میں دودھ اور پروٹین استعمال کرنے والوں میں گرنے کا خطرہ 11 فیصد جبکہ کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ 46 فیصد کم تھا۔

ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 700 سے 1,200 ملی گرام کیلشیم درکار ہوتا ہے جبکہ سنِ یاس کے بعد خواتین کے لیے اس کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔

سویا، ٹوفو اور ایڈامامے

جو افراد دودھ استعمال نہیں کرتے ان کے لیے سویا سے بنی غذائیں بہترین متبادل ہیں۔ 100 گرام ٹوفو میں تقریباً 200 ملی گرام کیلشیم پایا جاتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سویا میں موجود آئسوفلیونز نامی قدرتی مرکبات خواتین میں سنِ یاس کے بعد ہڈیوں کی کثافت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد

اسی طرح ٹیمپے جو خمیر شدہ سویا سے تیار کیا جاتا ہے، جسم میں کیلشیم کے جذب کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

چیا کے بیج

چیا کے بیج کیلشیم، میگنیشیم اور فاسفورس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ صرف ایک کھانے کا چمچ چیا سیڈز میں تقریباً 95 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔

ان میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بعض جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ چیا سیڈز ہڈیوں کی مضبوطی میں کردار ادا کر سکتے ہیں اگرچہ انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

خشک انجیر، خوبانی اور آلو بخارا

خشک پھل بھی ہڈیوں کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ صرف 2 خشک انجیروں میں تقریباً 100 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔

یہ پھل میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتے ہیں جو ہڈیوں کے ٹوٹنے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 50 گرام آلو بخارا کھانے والی خواتین میں ایک سال کے دوران ہڈیوں کی کمزوری نسبتاً کم دیکھی گئی۔

مچھلی

ڈبہ بند سارڈین اور سالمن ہڈیوں کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان میں کیلشیم، پروٹین اور وٹامن ڈی تینوں وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

صرف ایک چھوٹا سا ڈبہ سارڈین روزانہ درکار کیلشیم کا تقریباً 30 فیصد فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیاں اور پٹھے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظام کی طرح کام کرتے ہیں، اس لیے پروٹین کی مناسب مقدار پٹھوں کو مضبوط رکھتی ہے اور گرنے کے امکانات کم کرتی ہے، جس سے ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔

کیا سپلیمنٹس ضروری ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کی خوراک متوازن ہو اور اس میں دودھ، پروٹین، سبز پتوں والی سبزیاں، مچھلی یا دیگر غذائیں شامل ہوں تو عام طور پر سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں پڑتی۔

تاہم جن افراد میں وٹامن ڈی یا کیلشیم کی کمی ہو، دھوپ کم ملتی ہو یا خوراک کے ذریعے مطلوبہ مقدار حاصل نہ ہو رہی ہو انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس لینے چاہییں۔

مزید پڑھیں: زبردستی نہیں ٹیکنیک استعمال کریں: بچے سبزیاں نہیں کھاتے تو یہ مؤثر طریقے اپنائیں

تحقیقات کے مطابق وٹامن ڈی کی ضرورت سے زیادہ مقدار فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتی ہے اس لیے خود سے زیادہ خوراک لینے سے گریز کرنا چاہیے۔

صرف خوراک نہیں، ورزش بھی ضروری

ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط ہڈیوں کے لیے متوازن غذا کے ساتھ وزن اٹھانے والی ورزشیں، تیز چہل قدمی، دوڑ، سیڑھیاں چڑھنا اور جسمانی سرگرمی بھی نہایت اہم ہیں۔

مزید پڑھیے: بچوں کی مصنوعات آن لائن خریدتے ہیں؟ ایک غلط انتخاب جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے

ان کے مطابق اگر بچپن سے ہی صحت مند غذا اور فعال طرزِ زندگی اپنایا جائے تو عمر بڑھنے کے باوجود ہڈیوں کو مضبوط اور صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ہار تسلیم کرے، بلاول بھٹو کو اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے، مریم نواز

جاپان اور یونیسیف کا پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے طویل شراکت داری جاری رکھنے کا عزم

افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف

عام تعطیلات: اگست میں 7 چھٹیاں ملیں گی، کچھ کو 12 بھی

‘میں خوبصورتی کے بنائے گئے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتی’، کبریٰ خان

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی