والدین کے لیے بچوں کو سبزیاں کھلانا اکثر ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ بہت سے والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے صرف محدود اقسام کی غذا، خصوصاً ہلکے رنگوں والی اشیا، کھانا پسند کرتے ہیں اور سبزیوں سے گریز کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صحت بخش غذا کھانے کے لیے خود کو دھوکا دینے کے چند آسان طریقے
ماہرین کے مطابق بچوں میں میٹھی اشیا کی پسند بہت کم عمری میں ہی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ماں کے دودھ میں موجود قدرتی شکر بھی بچے کو میٹھے ذائقے کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بچے ٹھوس غذا کھانا شروع کرتے ہیں تو انہیں بروکولی، پالک یا دیگر سبزیاں کھلانا مشکل ہو سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما، توجہ، رویے اور تعلیمی کارکردگی کے لیے پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل متوازن غذا انتہائی ضروری ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سائنس دانوں نے تحقیق کے ذریعے ایسے کئی آسان طریقے دریافت کیے ہیں جو بچوں کو سبزیاں کھانے کی طرف راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو بار بار سبزیاں پیش کریں؎
برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز سے وابستہ بایو سائیکولوجی کی پروفیسر میریئن ہیتھرنگٹن کے مطابق بچوں کو کم عمری ہی سے مختلف اقسام کی سبزیاں بار بار پیش کرنا ان کی پسند کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
ماہرین کا کہنا ہے کہ پری اسکول عمر، یعنی 5 سال سے پہلے، بچوں میں سبزیوں کی عادت پیدا کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کسی نئی غذا کو قبول کرنے سے پہلے بچوں کو اسے 5 سے 15 مرتبہ تک دیکھنے یا آزمانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بچے کی غذائی ترجیحات کی تشکیل کا عمل پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے کیونکہ ماں کی خوراک کے ذائقے حمل کے دوران بچے تک پہنچ سکتے ہیں۔
کھانے کے آغاز میں سبزیاں پیش کریں
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر بچوں کو کھانے کے آغاز میں جب وہ زیادہ بھوکے ہوتے ہیں سبزیاں دی جائیں تو ان کے کھانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بچے عموماً پہلے اپنی پسندیدہ غذا کھاتے ہیں اور بعد میں سبزیوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ اس لیے سبزیوں کو پہلے پیش کرنا ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: خوراکی باقیات سے پنیر، گوشت اور دیگر غذائیں تیار، خوراک کا ضیاع روکنے میں اہم پیشرفت
امریکی ریاست پنسلوانیا کی پروفیسر باربرا رولز کے مطابق، اس طریقے سے نہ صرف بچے زیادہ سبزیاں کھاتے ہیں بلکہ زیادہ کھانے سے بھی بچ سکتے ہیں۔
صحت بخش غذا کی مقدار میں اضافہ کریں
اگر بچوں کو براہِ راست سبزیاں کھلانا مشکل ہو تو کھانے میں ان کا تناسب بڑھایا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر گاجر، لوکی یا دیگر سبزیوں کو باریک کاٹ کر سالن، ساس یا دیگر کھانوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب کھانے میں سبزیوں کی مقدار بڑھائی جاتی ہے تو بچے مجموعی طور پر زیادہ سبزیاں کھاتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق بچوں کی پلیٹ میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار میں 50 فیصد اضافہ کرنے سے ان کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
سبزیوں کی شکل اور انداز تبدیل کریں
ماہرین کے مطابق بچے اکثر ایسی غذا کو ترجیح دیتے ہیں جو دیکھنے میں دلچسپ اور پرکشش لگے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر پھلوں اور سبزیوں کو تتلی، پھول یا کھلونوں جیسی دلچسپ اشکال میں کاٹ کر پیش کیا جائے تو بچے انہیں زیادہ شوق سے کھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد
اسی طرح سبزیوں کو آسانی سے دستیاب اور خوبصورت انداز میں پیش کرنا بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں
تحقیقات کے مطابق والدین کی غذائی عادات بچوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ اگر والدین خود صحت بخش غذا کھاتے ہیں تو بچے بھی ان کی تقلید کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم 3 بار خاندان کے افراد کا اکٹھے کھانا کھانا بچوں میں بہتر غذائی عادات پیدا کرنے صحت مند وزن برقرار رکھنے اور غیر صحت بخش مشروبات کے استعمال میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کھانے کو دلچسپ اور تفریحی بنائیں
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بچوں کو زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش ان میں خوراک سے نفرت پیدا کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر بچوں کو نئی غذاؤں کو ہاتھ لگانے، سونگھنے اور ان کے ساتھ کھیلنے کی آزادی دی جائے تو ان کا نئے ذائقوں سے خوف کم ہو جاتا ہے اور وہ بعد میں انہیں آزمانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو کھانا پکانے کے عمل میں شریک کرنا بھی انہیں نئی غذائیں آزمانے کی طرف راغب کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو صحت مند غذا کھلانے کا بہترین طریقہ دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ کھانے کو ایک خوشگوار، دلچسپ اور مثبت تجربہ بنانا ہے۔ شاید یہی حکمت عملی بچوں کو صرف ’بیج رنگ‘ کی غذا سے آگے بڑھ کر رنگ برنگی اور صحت بخش خوراک اپنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بچوں کو زبردستی سبزیاں یا دیگر غذائیں کھلانے کی کوشش الٹا اثر ڈال سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دباؤ ڈالنے سے بچوں میں خوراک سے لطف اندوز ہونے کا رجحان کم ہو سکتا ہے جبکہ میٹھی یا چکنائی والی اشیا کو بطور انعام استعمال کرنے سے غیر صحت بخش غذاؤں کی پسند میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سے بچے نئی غذائیں آزمانے سے ہچکچاتے ہیں، جسے ’فوڈ نیوفوبیا‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم اگر بچوں کو کھانے کو چھونے، سونگھنے اور اس کے ساتھ کھیلنے یا کھانا تیار کرنے کے عمل میں شامل کیا جائے تو ان میں نئی غذائیں آزمانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: عالمی بحران میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات، پاکستان نے 40 فوڈ آئٹمز بھجوانے کی منظوری دے دی
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو صحت مند غذا کی طرف راغب کرنے کے لیے دباؤ کے بجائے مثبت، خوشگوار اور دلچسپ ماحول فراہم کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔














