وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے قتل کے مقدمات میں ادا کی جانے والی دیت کی رقم ایک کروڑ 93 لاکھ 52 ہزار 390 روپے مقرر کردی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں قریباً 97 فیصد زیادہ ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان پینل کوڈ 1860 کے تحت نئے مالی سال کے لیے دیت کی رقم ایک کروڑ 93 لاکھ 52 ہزار 390 روپے مقرر کی گئی ہے۔
دیت اس مالی معاوضے کو کہا جاتا ہے جو قتل کے مرتکب شخص کی جانب سے مقتول کے ورثا کو ادا کیا جاتا ہے۔
چاندی کی قیمت بڑھنے سے دیت میں نمایاں اضافہ
نوٹیفکیشن کے مطابق دیت کی رقم کا تعین پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 323 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت 30 ہزار 630 گرام چاندی کی مالیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
مالی سال 26-2025 میں دیت کی مالیت 98 لاکھ 28 ہزار 670 روپے مقرر تھی، جبکہ رواں مالی سال کے لیے اس میں قریباً 97 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ چاندی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہے۔
گزشتہ برسوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 24-2023 میں دیت کی رقم 67 لاکھ 57 ہزار 902 روپے مقرر کی گئی تھی، جو مالی سال 23-2022 کی 43 لاکھ 18 ہزار 524 روپے کی رقم کے مقابلے میں قریباً 56 فیصد زیادہ تھی۔
قانون کیا کہتا ہے؟
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 323 کے مطابق عدالت قرآن و سنت کی تعلیمات، مجرم کی مالی حیثیت اور مقتول کے ورثا کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیت کی رقم کا تعین کرتی ہے، تاہم یہ رقم 30 ہزار 630 گرام چاندی کی مالیت سے کم نہیں ہو سکتی۔
اسی دفعہ کی ذیلی شق کے تحت وفاقی حکومت ہر سال یکم جولائی یا اپنی مقرر کردہ کسی اور تاریخ کو سرکاری گزٹ کے ذریعے چاندی کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، جس کی بنیاد پر متعلقہ مالی سال کے لیے دیت کی رقم مقرر کی جاتی ہے۔
سینیٹ میں قانون میں ترمیم کی تجویز
گزشتہ سال جولائی میں سینیٹ میں ایک ترمیمی تجویز بھی پیش کی گئی تھی، جس میں کم از کم دیت کی بنیاد 30 ہزار 630 گرام چاندی کے بجائے 2 ہزار گرام سونا یا مجرم کے کل اثاثوں کے ایک چوتھائی حصے کے مساوی مقرر کرنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم اس تجویز پر تاحال قانون سازی نہیں ہو سکی۔













