مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدید تشدد دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں، فوجی کارروائیوں اور فلسطینی آبادیوں کی بے دخلی کے واقعات نے کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
حالیہ بحران کا آغاز شمالی مغربی کنارے کے گاؤں طال میں ہونے والے ایک تصادم سے ہوا، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے دوران فلسطینیوں نے مزاحمت کی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے جرائم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اس واقعے میں 2 اسرائیلی آبادکار ہلاک ہو گئے، جس کے بعد اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔
🟦Settler militias raising flags on an unfinished building west of Deir Ammar village, near Ramallah in the West Bank.
Israel maintains military and administrative control over large parts of the West Bank and chooses to allow or actively support settlement activity there.… pic.twitter.com/8G6XAtmJOj
— MagicalM (@MagicalM999) July 27, 2026
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ مغربی کنارے میں ’دہشتگردی کے مراکز‘ کے خلاف فوجی آپریشن بڑھائے جائیں گے، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی چوکیوں اور بستیوں کے قیام کو اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے ایک اہم اور اسٹریٹجک اقدام قرار دیا۔
تاہم متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور نئی بستیاں کسی فوری ردعمل کا حصہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا تسلسل ہیں، جس کا مقصد مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

تجزیوں کے مطابق اسرائیلی فوج پہلے فلسطینی شہروں اور دیہات میں آپریشن کرتی ہے، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے، گرفتاریاں اور چھاپے مارتی ہے، جس کے بعد آبادکار انہی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیتے ہیں۔ بعد ازاں انتظامی اقدامات کے ذریعے نئی اسرائیلی بستیاں قائم کی جاتی ہیں۔
جنین اور طولکرم سمیت مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران اسی طرز کی کارروائیاں دیکھی گئی ہیں، جہاں فوجی آپریشنوں کے بعد نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا عمل تیز ہوا ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل عدم تحفظ کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق فوجی چوکیوں، آبادکاروں کے حملوں، گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی، گرفتاریوں اور روزمرہ پابندیوں نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
فلسطینیوں کا مؤقف ہے کہ اسکول جانے والے بچوں سے لے کر کسانوں تک، تقریباً ہر طبقہ ان حالات سے متاثر ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: فرانس نے اسرائیلی آبادکاروں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا، سبب کیا نکلا؟
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں جاری فوجی کارروائیاں اور سیکیورٹی اقدامات اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، جبکہ فلسطینی قیادت اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں ان اقدامات کو مقبوضہ علاقوں میں زمین پر کنٹرول بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق مغربی کنارے میں تازہ کشیدگی صرف ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ خطے میں جاری وسیع تر تنازع کا تسلسل ہے، جہاں زمین، سلامتی اور خودمختاری کے سوالات بدستور دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات کا محور بنے ہوئے ہیں۔














