آبادکاروں کے حملے اور فوجی آپریشن، مغربی کنارے میں کشیدگی کی نئی لہر

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدید تشدد دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں، فوجی کارروائیوں اور فلسطینی آبادیوں کی بے دخلی کے واقعات نے کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

حالیہ بحران کا آغاز شمالی مغربی کنارے کے گاؤں طال میں ہونے والے ایک تصادم سے ہوا، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے دوران فلسطینیوں نے مزاحمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے جرائم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

اس واقعے میں 2 اسرائیلی آبادکار ہلاک ہو گئے، جس کے بعد اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ مغربی کنارے میں ’دہشتگردی کے مراکز‘ کے خلاف فوجی آپریشن بڑھائے جائیں گے، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی چوکیوں اور بستیوں کے قیام کو اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے ایک اہم اور اسٹریٹجک اقدام قرار دیا۔

تاہم متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور نئی بستیاں کسی فوری ردعمل کا حصہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا تسلسل ہیں، جس کا مقصد مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

تجزیوں کے مطابق اسرائیلی فوج پہلے فلسطینی شہروں اور دیہات میں آپریشن کرتی ہے، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے، گرفتاریاں اور چھاپے مارتی ہے، جس کے بعد آبادکار انہی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیتے ہیں۔ بعد ازاں انتظامی اقدامات کے ذریعے نئی اسرائیلی بستیاں قائم کی جاتی ہیں۔

جنین اور طولکرم سمیت مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران اسی طرز کی کارروائیاں دیکھی گئی ہیں، جہاں فوجی آپریشنوں کے بعد نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا عمل تیز ہوا ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل عدم تحفظ کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق فوجی چوکیوں، آبادکاروں کے حملوں، گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی، گرفتاریوں اور روزمرہ پابندیوں نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

فلسطینیوں کا مؤقف ہے کہ اسکول جانے والے بچوں سے لے کر کسانوں تک، تقریباً ہر طبقہ ان حالات سے متاثر ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: فرانس نے اسرائیلی آبادکاروں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا، سبب کیا نکلا؟

اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں جاری فوجی کارروائیاں اور سیکیورٹی اقدامات اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، جبکہ فلسطینی قیادت اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں ان اقدامات کو مقبوضہ علاقوں میں زمین پر کنٹرول بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہیں۔

مبصرین کے مطابق مغربی کنارے میں تازہ کشیدگی صرف ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ خطے میں جاری وسیع تر تنازع کا تسلسل ہے، جہاں زمین، سلامتی اور خودمختاری کے سوالات بدستور دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات کا محور بنے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟