وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے 2027 سے 2030 تک کے لیے ملک کی پہلی 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف پالیسی نہیں بلکہ حج انتظامات میں جامع اصلاحات کا آغاز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر شفاف، جدید اور عازمین کی سہولت پر مبنی پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس میں حج نظام کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے اور 4 سالہ رجسٹریشن و ویٹنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ 3 سے 4 سالہ سروس معاہدے کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:وفاقی حکومت کا حجم کم کرنے کا عمل تیز، غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کے خاتمے پر زور
سردار یوسف نے بتایا کہ سرکاری اور نجی حج کوٹے کا تناسب بدستور 60 اور 40 فیصد رہے گا، جبکہ عازمین صرف 10 فیصد رقم جمع کرا کے درخواست دے سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ادائیگیاں سرکاری مالیاتی نظام کے تحت ہوں گی، تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا، بچ جانے والی رقم حجاج کو واپس کی جائے گی اور حکومت پورے حج عمل کی نگرانی کرے گی۔
وزیر مذہبی امور کے مطابق نئی پالیسی سعودی ویژن 2030 کے مطابق ترتیب دی گئی ہے، نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی، جبکہ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ڈیجیٹل شکایات اور اپیل کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:حج 2027 تا 2030 کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن جاری، 3 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ عازمین رجسٹرڈ
انہوں نے کہا کہ حجاج محافظ اسکیم برقرار رہے گی، عازمین کی تربیت مزید مؤثر بنائی جائے گی، حج اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں جن میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، رقوم کی وصولی کا عمل جلد شروع ہوگا، جبکہ پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 ہے۔














