جب آپ کوئی ایسی فلم دیکھیں جس کا اختتام آپ کو پہلے سے معلوم ہو تو کیا اس فلم میں کوئی دلچسپی باقی رہتی ہے؟ پاکستان کرکٹ کی صورتحال بھی اب کچھ ایسی ہی ہوگئی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب بنگلہ دیش، زمبابوے اور افغانستان جیسی ٹیموں کے خلاف یکطرفہ مقابلے ہوتے تھے اور قومی ٹیم کی کامیابی یقینی ہوتی تھی، پھر وقت بدلا اور میچ سنسنی خیز ہونے لگے، اب بھی فتح ہمیں ہی مل رہی تھی مگر پھر حالات مزید کچھ بدل گئے اور اب ہمیں کبھی بنگلہ دیشی ٹیم کلین سوئپ کررہی ہے، کبھی افغانستان ٹیم ناکوں چنے چبوا رہی ہے تو کبھی زمبابوے ورلڈ کپ میں شکست سے دوچار کررہی ہے۔
بات کہیں اور نکل گئی، کیونکہ ابھی تو ہمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ پر بات کرنی ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز میں محض ایک ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ 2017 میں کھیلی گئی اس سیریز نے یونس خان اور مصباح الحق کی رخصتی کو یادگار لمحہ بنادیا تھا کیونکہ ماضی میں ’بڑے لڑکے‘ کبھی یہ کام نہیں کرسکے تھے۔
لہٰذا کیریبین میں قومی ٹیم کے اس ریکارڈ کو دیکھ کر کم از کم مجھے تو ہرگز یہ امید نہیں تھی کہ اس بار قومی ٹیم کوئی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ مگر میں غلط تھا، غلط اس انداز میں کہ ہم میچ تو نہ جیتے، مگر جیتے ہوئے میچ کو میزبان کے حوالے ضرور کرگئے۔
311 رنز کے تعاقات میں جب کسی ٹیم کے 244 رنز پر صرف 3 کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہوں اور پھر وہ ٹیم 282 رنز پر آؤٹ ہوجائے تو یہ کارنامہ صرف ہمارے بلے باز ہی کرسکتے ہیں۔ پھر جب صرف 93 رنز کوئی بولنگ لائن مخالف ٹیم کے 7 کھلاڑی آؤٹ کرلے اور بات 182 رنز تک پہنچ جائے تو یہ کارنامہ بھی صرف ہمارے ہی بولرز کرسکتے ہیں۔
اگر تھوڑا حساب کتاب کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم نے ہاتھ میں آئے ہوئے میچ کو کتنی خوبصورتی اور بڑے دل کے ساتھ میزبان کے حوالے کیا۔
244 رنز پر جب 3 کھلاڑی آؤٹ تھے تو اس وقت یہی لگ رہا تھا کہ ہم باآسانی 400 رنز تک تو پہنچ ہی جائیں گے۔ چلیں 400 کو ایک طرف کردیں، ہم 350 کی بات کرلیتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہم 39 رنز کی لیڈ حاصل کرلیتے۔
پھر دوسری اننگز میں جب ویسٹ انڈیز کے 7 کھلاڑی 93 پر آؤٹ ہوئے تو معاملہ 120 رنز تک نمٹایا جاسکتا تھا اور اگر ایسا ہوجاتا تھا تو 120 میں سے 39 رنز کی لیڈ کو مائنس کیا جائے تو بات 81 رنز تک رک جاتی اور ہم یہ میچ توقعات نہ ہونے کے باوجود جیت جاتے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سے باہر قومی ٹیم کی یہ لگاتار 8ویں شکست ہے۔ 3 ہم آسٹریلیا میں ہارے، 2 میچوں میں ہمیں جنوبی افریقہ میں شکست ہوئی، پھر 2 میچ بنگلہ دیش میں ہارے اور اب ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ آٹھواں میچ، کچھ بعید نہیں کہ اگلے میچ میں یہ تعداد 9 تک پہنچ جائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ قومی ٹیم گھر سے باہر لگاتار 8 میچ ہاری ہو، لیکن چونکہ ہر ریکارڈ بننے اور ٹوٹنے کے لیے ہی بنتے ہیں تو ایک ریکارڈ یہ بھی سہی۔
پاکستانی ٹیم کا کمال یہ ہے کہ وہ چاہے ہر میچ ہار جائے لیکن لوگوں کو غم اور تکلیف ایسے ہوتا ہے جیسے یہ واقعہ پہلی مرتبہ رونما ہوا ہے۔ اب اس شکست کی ذمہ داری بابر اعظم پر ڈالی جارہی ہے کہ انہوں نے خود کو بچانے کے لیے ٹیل اینڈرز کو زیادہ بیٹنگ دی اور ہم میچ ہار گئے یعنی آسان الفاظ میں بابر اعظم کو خود غرض بلے باز قرار دیا جارہا ہے۔
زبان سخت ہوسکتی ہے مگر بات غلط بھی نہیں لیکن چونکہ آخری اننگز میں صرف انہوں نے ہی رنز کیے ہیں تو بابر کے دفاع میں بھی ایک بڑی تعداد میدان میں آچکی ہے۔ اس تُو تُو، میں میں کو ایک طرف رکھ دیں تو وہی بہتر ہے کیونکہ اس کا حل نکلتا نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کرکٹ ویسے بھی اب پست ترین مقام تک پہنچ چکی ہے کہ جب آپ ہر طرح سے آزمائے ہوئے بابر اعظم کو ایک مرتبہ پھر کپتان بنادیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیچھے آپ کے پاس اب کچھ زیادہ بچا نہیں ہے۔
ناکامی ہوئی ہے تو باتیں بھی اسی پر کریں گے مگر جاتے جاتے آپ کو اچھی خبر بھی سنادیتے ہیں کہ کبھی کبھی یہ موقع ملتا ہے۔
بات یہ ہے کہ گزشتہ 31 سالوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستانی بولرز کسی بھی ٹیسٹ میچ میں مخالف ٹیم کی 20 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ ہم ایک ایسی ٹیم کے بارے میں بات کررہے ہیں کہ جس کا زعم اسی بات پر ہے کہ کسی بھی ٹیم کو اس سے اچھے بولرز نہیں ملے۔ ان 31 سالوں میں کونسا بڑا بولر پاکستانی ٹیم کا حصہ نہیں بنا، مگر پھر بھی ہم یہ کام نہیں کرسکے تھے، اس لیے کبھی کبھی ملنے والی خوشیوں پر خوش ہو ہی جانا چاہیے۔
اس شکست کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے دوسرے میچ میں تبدیلیوں کا اشارہ دے دیا ہے۔ یہ ایک میوزیکل چیئر ہے، چلتی رہے گی، آج سرفراز احمد نے تبدیلیوں کا اشارہ دیا ہے مگر کیا معلوم سیریز کے بعد انہیں ہی تبدیل کردیا جائے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













