زمین کے قریب سے گزرنے والے ایک دیو ہیکل سیارچے ’اپوفِس‘ نے ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا 2029 میں دیوہیکل دھاتی سیارچے تک پہنچنے کے لیے پُرامید
ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے حجم کے برابر یہ سیارچہ 13 اپریل 2029 کو زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا اور موزوں موسمی حالات میں دنیا کے اربوں افراد اسے کھلی آنکھ سے دیکھ سکیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس سیارچے کا نام قدیم مصری دیوتا اپوفِس کے نام پر رکھا گیا ہے جسے افراتفری اور تباہی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ابتدائی اندازوں میں اس کے زمین سے ٹکرانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم تازہ ترین سائنسی تحقیقات کے مطابق آئندہ کم از کم 100 برس تک اس سیارچے سے زمین کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ واضح رہے کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ امریکا کے شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع 102 منزلہ عمارت ہے جس کی مجموعی اونچائی تقریباً 443 میٹر ہے اسی لیے سائنس دان اپوفِس کے حجم کا اندازہ دینے کے لیے اس کا موازنہ اس مشہور عمارت سے کررہے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق اپوفِس مونگ پھلی جیسی ساخت رکھتا ہے اس کا قطر تقریباً 340 میٹر جبکہ لمبائی 450 میٹر سے زیادہ ہے۔ یہ نظام شمسی کی تشکیل کے ابتدائی دور کے قدیم مادّے پر مشتمل ہے جسے سائنس دان کائنات کی ابتدا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیے: زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے بچانے کی نئی امید پیدا ہوگئی
ماہرین کے مطابق 13 اپریل 2029 کو اپوفِس زمین کی سطح سے تقریباً 20 ہزار میل (32 ہزار کلومیٹر) کے فاصلے سے گزرے گا جو کئی مصنوعی سیارچوں کے مدار سے بھی کم فاصلہ ہے۔
اگر موسم صاف رہا تو یہ سیارچہ مشرقی نصف کرہ کے متعدد علاقوں بشمول افریقا، یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا سے بغیر دوربین کے بھی دیکھا جا سکے گا۔
اپوفِس کو پہلی بار 2004 میں ماہرین فلکیات رائے ٹکر، ڈیوڈ تھولن اور فابریتزیو برنارڈی نے دریافت کیا تھا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق یہ فلکیاتی واقعہ اپوفِس اور زمین کے قریب سے گزرنے والے دیگر سیارچوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا ایک غیر معمولی موقع فراہم کرے گا۔
ناسا کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا سیارچہ اوسطاً ہر چند ہزار برس بعد ہی زمین کے اتنے قریب سے گزرتا ہے اس لیے غالب امکان ہے کہ انسانی تاریخ میں اس نوعیت کا واقعہ پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟
خلائی ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا جب انسانوں کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود ہوگی کہ وہ اس دیو ہیکل سیارچے کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کر سکیں۔ اسی مقصد کے لیے مختلف خلائی ادارے زمینی رصد گاہوں اور خصوصی خلائی مشنز کے ذریعے اپوفِس کی مسلسل نگرانی کریں گے۔
یہ سیارچہ پاکستان میں کب اور کتنے بجے دیکھا جاسکے گا؟
ماہرین کے مطابق اپوفِس تقریباً 7 گھنٹے تک زمین کے مختلف حصوں سے دکھائی دیتا رہے گا تاہم ہر ملک میں اس کے نظر آنے کا دورانیہ اور وقت مختلف ہوگا۔
ماہرین کے مطابق 13 اپریل 2029 کو اپوفِس پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر ممالک سے صاف موسم کی صورت میں بغیر دوربین کے دیکھا جا سکے گا۔ یہ عام ستاروں کے مقابلے میں زیادہ روشن دکھائی دے گا اور آسمان میں نسبتاً تیزی سے حرکت کرتا ہوا محسوس ہوگا جس کی وجہ سے عام افراد بھی اسے آسانی سے شناخت کر سکیں گے۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں سے اسے دیکھنے کے درست وقت، سمت اور دورانیے کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے تفصیلی معلومات اور مشاہداتی نقشے واقعے کے قریب آنے پر ناسا اور دیگر فلکیاتی ادارے جاری کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
ماہرین کے مطابق اپوفِس کا زمین کے قریب سے گزرنا ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ ہوگا کیونکہ اتنا بڑا سیارچہ اوسطاً ہر چند ہزار برس بعد ہی زمین کے اتنے قریب سے گزرتا ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے خلائی ادارے اس کے مشاہدے کے لیے خصوصی تیاریاں کر رہے ہیں۔
ناسا کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہوگا جب انسانوں کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود ہوگی کہ وہ ایک دیو ہیکل سیارچے کا اتنے قریب سے تفصیلی مشاہدہ کر سکیں۔ اسی مقصد کے لیے مختلف خلائی ادارے زمینی رصد گاہوں اور خصوصی خلائی مشنز کے ذریعے اپوفِس کا مسلسل جائزہ لیں گے جس سے زمین کے قریب گردش کرنے والے دیگر سیارچوں کے بارے میں بھی اہم سائنسی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
کیا اپوفِس 2029 تک اپنا راستہ بدل سکتا ہے؟
بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ کیا سنہ 2029 تک اپوفِس کا راستہ تبدیل ہو سکتا ہے یا وہ زمین سے بہت دور سے گزر سکتا ہے تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اپوفِس کو سنہ 2004 میں دریافت کیا گیا تھا اور گزشتہ 2 دہائیوں سے دنیا بھر کی رصد گاہیں اس کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ اس عرصے کے دوران اس کے مدار کا انتہائی درست انداز میں تعین کیا جا چکا ہے جس کی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہے کہ کم از کم آئندہ 100 برس تک اس سیارچے سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے
ابتدائی اندازوں میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اپوفِس 2029 یا بعد کے برسوں میں زمین سے ٹکرا سکتا ہے تاہم بعد ازاں مزید مشاہدات، جدید ریڈار ٹیکنالوجی اور سائنسی تجزیوں کے بعد اس خدشے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلا میں گردش کرنے والے اجرام پر سورج، زمین، چاند اور دیگر سیاروں کی کشش ثقل معمولی اثرات مرتب کرتی ہے تاہم اپوفِس کے بارے میں ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے مدار کا حساب لگایا جا چکا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس فلکیاتی واقعے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 13 اپریل 2029 کو جب اپوفِس زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا تو زمین کی کشش ثقل اس کے مدار میں واضح تبدیلی پیدا کرے گی۔ بہ الفاظ دیگر اس قریبی گزر کے بعد اپوفِس کا آئندہ راستہ پہلے جیسا نہیں رہے گا تاہم یہ تبدیلی زمین کے قریب سے گزرنے کے بعد واقع ہوگی اس سے پہلے نہیں۔
مزید پڑھیے: ہارورڈ ماہر فلکیات کا خدا کے وجود پر حیران کن مؤقف، سائنس اور مذہب قریب آ گئے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اپوفِس کا یہ قریبی گزر عالمی خلائی اداروں کے لیے غیر معمولی سائنسی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلی بار انسانوں کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود ہوگی کہ وہ ایک دیو ہیکل سیارچے کا اتنے قریب سے مشاہدہ کرتے ہوئے اس کے مدار میں آنے والی تبدیلیوں کا براہ راست مطالعہ کر سکیں گے جس سے مستقبل میں زمین کے قریب سے گزرنے والے دیگر سیارچوں کے بارے میں بھی قیمتی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔













