بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی معروف صحافی نگار دل نہار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک دفاع، تجارت، سیاحت اور تعلیمی شعبوں میں ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔
وی نیوز کے پروگرام ’صحافت اور سیاست‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نگار دل نہار نے کہاکہ پاکستان آکر انہیں اپنے گھر جیسا احساس ہوتا ہے کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک ایک ہی ریاست کا حصہ تھے۔
’نئی حکومت کے بعد تعلقات میں بہتری آئی‘
انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش میں نئی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات میں واضح بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، جبکہ پاکستان کو نظر انداز کیا جاتا تھا اور زیادہ تر توجہ 1971 کے واقعات پر مرکوز رکھی جاتی تھی۔
انہوں نے کہاکہ دنیا میں بہت سے ممالک ماضی میں ایک دوسرے سے جنگیں لڑ چکے ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے تعلقات کو معمول پر لایا، اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔
’براہِ راست پروازوں کا آغاز خوش آئند پیشرفت‘
نگار دل نہار نے کہاکہ حالیہ عرصے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ایک اہم پیشرفت ہے۔
انہوں نے کہاکہ کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فلائٹس شروع ہوئی ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے عوام کو سفری سہولت میسر آئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پہلے پاکستان آنے کے لیے انہیں ٹرانزٹ کے ذریعے قریباً 24 گھنٹے سفر کرنا پڑتا تھا، جبکہ اب سفر نہ صرف آسان ہوگیا ہے بلکہ فضائی ٹکٹ کی لاگت بھی قریباً نصف رہ گئی ہے۔
’پاکستان کے بارے میں تاثر حقیقت سے مختلف تھا‘
بنگلہ دیشی صحافی نے کہاکہ ماضی میں انہیں پاکستان کے بارے میں جو کچھ بتایا جاتا تھا، وہ حقیقت سے مختلف نکلا۔
انہوں نے کہاکہ انہیں یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے لوگوں کو پسند نہیں کرتا، لیکن پاکستان آنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ یہاں کے لوگ بنگلہ دیشیوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ انہیں پہلے اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور یہاں سیاحت کے بے شمار مقامات موجود ہیں۔
’تعلیمی تعاون میں بھی اضافہ ہو رہا ہے‘
نگار دل نہار نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون بھی فروغ پا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے اسکالرشپ پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جن کے تحت قریباً 3500 طلبہ پاکستان آ چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سارک کے تحت بھی تعلیمی تبادلوں کے پروگرام جاری ہیں، جن کے ذریعے پاکستانی طلبہ بنگلہ دیش میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کے میڈیکل کالجوں میں بھی غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
’دفاع، تجارت اور سیاحت میں تعاون بڑھ رہا ہے‘
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون، تجارتی روابط اور سیاحت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نگار دل نہار نے کہاکہ موجودہ حالات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔













