پاکستان نے اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی حالیہ رپورٹ کو حقائق کے برعکس اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اسے افغان طالبان کے مؤقف کی عکاسی قرار دیا ہے۔ کابل میں پاکستانی سفارتخانے نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں اپنے دفاع کے جائز حق کے تحت کی گئیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں، تربیتی مراکز، مالی معاونت اور سرحد پار حملوں کے لیے سہولت فراہم کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگرد حملوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 900 سے زائد پاکستانی شہید جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان: سرِ پل میں حملہ، طالبان انٹیلیجنس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ
بیان کے مطابق پاکستان نے فروری 2026 میں افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گرد حملوں کے جواب میں آپریشن ’غضب للحق‘ شروع کیا، جس کا مقصد دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔ مئی اور جون 2026 کے دوران پشاور، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ٹی ٹی پی کے متعدد حملوں کے بعد پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی کے کیمپوں، تربیتی مراکز، اسلحہ ڈپوؤں اور کمانڈروں کے ٹھکانوں پر انتہائی درست کارروائیاں کیں، جن میں مجموعی طور پر متعدد دہشت گرد مارے گئے۔
پاکستان نے مزید کہا کہ 27 جون 2026 کو کراچی میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 افغان شہری تھے اور حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی تھی، جس میں 3 پاکستانی فوجی شہید اور 4 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان نے تین ماہ میں تقریباً 400 افراد گرفتار، میڈیا پر شکنجہ مزید سخت، اقوام متحدہ کا انکشاف
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی تمام فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق امتیاز اور تناسب کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے صرف دہشت گردوں کے شناخت شدہ ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور معاون ڈھانچے کے خلاف کی گئیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی بند کرے، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔














