کوئٹہ میں پانی کی شدید قلت: واسا کی سپلائی محدود، عوام ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ اس وقت اپنی تاریخ کے شدید ترین آبی بحران سے گزر رہا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے جبکہ واسا کی جانب سے پانی کی فراہمی شہر کے بیشتر علاقوں میں انتہائی محدود ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: موسم گرما میں پانی کی قلت، کیا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پانی کی کمی کو پورا کر پائے گا؟

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے شہری احمد اللہ نے بتایا کہ کئی علاقوں میں ہفتے میں صرف 2 مرتبہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ بعض محلوں میں کئی کئی ہفتوں تک نلکوں میں پانی نہیں آتا جس کے باعث ہزاروں خاندان نجی واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

شہر کے مختلف علاقوں سمنگلی روڈ، جناح ٹاؤن، سریاب روڈ، بروری روڈ، قمبرانی روڈ، سرکی روڈ، رحمت کالونی، بینک کالونی، سیٹلائٹ ٹاؤن اور سبزل روڈ سمیت متعدد رہائشی علاقوں میں پانی کی شدید قلت نے معمولات زندگی متاثر کر دیے ہیں۔

خواتین، بزرگ اور بچے پانی کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جبکہ متوسط اور غریب طبقہ مہنگے داموں پانی خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔

سریاب روڈ کے رہائشی محمد نعیم کے مطابق واسا کا پانی ہفتے میں صرف 2 سے 3 مرتبہ آتا ہے اور وہ بھی محدود وقت کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر ماہ بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں لیکن پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھیے: کیا کوئٹہ کا پانی پینے کے لیے غیر موزوں ہے؟

محمد ندیم نے بتایا کہ اس وقت چھوٹا واٹر ٹینکر 2 ہزار روپے جبکہ بڑا ڈھائی تا 3 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور یہ صورتحال عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔

شہریوں کا شکوہ ہے کہ پانی کی قلت کی باعث ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی ہے۔ مختلف علاقوں میں ٹینکروں کے نرخ اپنی مرضی سے مقرر کیے جا رہے ہیں جبکہ ان کی نگرانی کے لیے کوئی مؤثر سرکاری نظام موجود نہیں۔

ان کے بقول واسا کے پاس پانی کا ذخیرہ بظاہر خالی دکھائی دکھائی دیتا ہے لیکن نجی ٹینکروں کے لیے پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے جو حیران کن ہے۔

واسا حکام کے مطابق کوئٹہ شہر کو روزانہ تقریباً 5 کروڑ گیلن پانی درکار ہے جبکہ ادارہ دستیاب وسائل کے تحت صرف 3 کروڑ گیلن یومیہ پانی فراہم کر پا رہا ہے۔ اس طرح شہر کو روزانہ تقریباً 2 کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

واسا کے 50 ٹیوب ویل بند پڑے ہیں

حکام کے مطابق واسا کے زیر انتظام 417 ٹیوب ویلز موجود ہیں تاہم ان میں سے تقریباً 50 ٹیوب ویلز خراب ہونے کے باعث بند ہیں جس سے سپلائی کا نظام مزید متاثر ہوا ہے۔

واسا کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی مسلسل گرتی سطح، بجلی کی فراہمی میں مسائل اور خشک سالی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث بحران پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے تاہم خراب ٹیوب ویلز کی بحالی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین تر ہوگیا، اصل وجہ کیا ہے؟

جامعہ بلوچستان کے نامور ماہر ارضیات پروفیسر ڈاکٹر دین محمد کاکڑ کے مطابق کوئٹہ میں پانی کا بحران اب ایک ماحولیاتی مسئلے سے بڑھ کر بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔

کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر فوسل واٹر (قدیم اور ناقابل تجدید زیر زمین پانی) نکالا جا رہا ہے جو ہزاروں برسوں میں جمع ہوا تھا لیکن اب چند دہائیوں میں تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر دین محمد کاکڑ کے مطابق غیر قانونی ٹیوب ویلز، بے ہنگم شہری آبادی، بارشوں میں مسلسل کمی، نئے آبی ذخائر کی عدم تعمیر اور زیر زمین پانی کی ری چارجنگ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث پانی کی سطح ہر سال خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے۔

ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ ان کی سائنسی تحقیق کے مطابق زیر زمین پانی کے بے تحاشا اخراج کے باعث کوئٹہ کی وادی میں بعض مقامات پر زمین بیٹھنے  اور دراڑیں پڑنے کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں جو مستقبل میں بڑے ماحولیاتی خطرے کی علامت ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان خشک سالی کی لپیٹ میں، بارشوں میں شدید کمی کے بعد قابل کاشت رقبہ مزید سُکڑ گیا

پروفیسر ڈاکٹر دین محمد کاکڑ کے بقول اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں کوئٹہ کو شدید آبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جاپان میں شدید زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان

طالبان کی قید میں ایک سال گزارنے کے بعد افغان صحافی بشیر ہاتف رہا

وزن کم کرنے کے انجیکشن بال جھڑنے کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

پاک ایران سفارت کاری رنگ لے آئی، خلیج عرب میں پھنسا قطری ایل این جی کا بحری جہاز پاکستان کے لیے روانہ

تیل کی قیمتوں میں کمی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود مارکیٹ مستحکم

ویڈیو

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

نورین نیازی ذاتی مفاد کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘