پاکستان نے اپنے گہرے ہوتے توانائی بحران کو کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے تحت ایران سے کامیاب مذاکرات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لانے والے کم از کم ایک بحری جہاز کو محفوظ راستہ مل گیا ہے۔
جہاز رانی کے اعداد و شمار اور بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، الاریش نامی بحری جہاز جولائی کے اوائل میں قطر کے ‘راس لفان’ ایکسپورٹ ٹرمینل سے ایل این جی لوڈ کرنے کے بعد سے خلیج عرب میں رکا ہوا تھا۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاملے کے بعد اس جہاز نے جمعرات کے روز آبنائے ہرمز کو عبور کر لیا ہے۔ جہاز نے سگنلنگ سسٹم (ٹرانسپونڈر) آن کر رکھے ہیں اور اس وقت اس کی منزل پاکستان ظاہر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سب سے کم بولی کامیاب، پاکستان کی اسپاٹ ایل این جی خریداری کا ٹھیکہ بی پی سنگاپور کے نام
معاملے سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ محفوظ راستے کی فراہمی کا یہ معاہدہ دیگر ایل این جی شپمنٹس کے لیے بھی کارآمد ہو سکتا ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی ایندھن کی شدید قلت کا شکار پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لیے اپنے سفارتی روابط کا استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل رواں سال کے شروع میں بھی پاکستان نے انہی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے تہران کے ساتھ کئی ایل این جی جہازوں کے محفوظ گزرگاہ کے لیے مذاکرات کیے تھے۔
تاہم، حالیہ پرتشدد واقعات اور قطری ایل این جی ٹینکر پر ایرانی حملے کے بعد پاکستان کو ایندھن کی ترسیل عملی طور پر معطل ہو کر رہ گئی تھی۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے قطر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور سپلائی کی اس منسوخی کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں سخت لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے توانائی کے ذخائر مزید بہتر، حکومت نے اسپاٹ مارکیٹ سے نئی ایل این جی کھیپ خرید لی
پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم، قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس اور ایرانی وزارتِ خارجہ نے بلومبرگ کی جانب سے موقف مانگنے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کہ بحری جہاز کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے کوئی ادائیگی کی گئی ہے یا نہیں۔
بلومبرگ کے تخمینے کے مطابق، فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان کو قطری سپلائی کے متبادل کے طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کے لیے 400 ملین ڈالر (40 کروڑ ڈالر) سے زائد کی بھاری رقم ادا کرنا پڑی ہے۔













