شمالی پاکستان میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد معروف نیپالی نژاد برطانوی کوہ پیما نرمل پرجا (نمز دائی) سمیت 10 بین الاقوامی کوہ پیما لاپتا ہو گئے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے نائب صدر کررار حیدری کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق براڈ پیک پر چڑھائی کے دوران نرمل پرجا کی قیادت میں کوہ پیماؤں کے گروپ کو برفانی تودے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد سے ان سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:14 سالہ ملائکہ خلجی نے کھوسر گنگ چوٹی سر کرکے بلوچستان کی پہلی خاتون کوہ پیما ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا
الپائن کلب کے مطابق لاپتا ہونے والے گروپ میں پانچ نیپالی کوہ پیما، ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، عمان کی خاتون کوہ پیما نثیرہ، امریکی کوہ پیما میلوری گیز، چینی کوہ پیما وانگ اور ایک دیگر غیر ملکی کوہ پیما شامل ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد اور دیگر سینئر عہدیدار حکومتی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو فوری طور پر مؤثر بنایا جا سکے۔ کلب کا کہنا ہے کہ موسم اور آپریشنل صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیلی کاپٹروں اور دیگر امدادی وسائل کو متحرک کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
نرمل پرجا، جو ’نمز دائی‘ کے نام سے بھی معروف ہیں، 2019 میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو صرف 189 روز میں سر کر کے عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی پر مبنی دستاویزی فلم ’14 Peaks: Nothing Is Impossible‘ بھی نیٹ فلکس پر ریلیز کی گئی تھی، جس نے انہیں دنیا بھر میں پہچان دلائی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کوہ پیماؤں کی 2 اہم کامیابیاں: براڈ پیک اور خوسر گینگ کی چوٹیاں سر کرلیں
8,047 میٹر (26,401 فٹ) بلند براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ پاکستان دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن ہے، جہاں ہر سال مختلف ممالک سے کوہ پیما مہمات میں حصہ لینے کے لیے آتے ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، جبکہ لاپتا کوہ پیماؤں کے اہل خانہ اور عالمی کوہ پیمائی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔












