اگست کا آغاز ہوتے ہی پورا پاکستان جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ یہ مہینہ قوم کو آزادی کی جدوجہد، قربانیوں اور ان تاریخی فیصلوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ انہی تاریخی فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ وفاقی دارالحکومت کے طور پر اسلام آباد کا قیام بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو دوبارہ سبز بنانے کی مہم کا آغاز
یوم آزادی کی خوشیوں کے اس موسم میں اسلام آباد کا ذکر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی شہر آج پاکستان کے سیاسی، انتظامی اور سفارتی نظام کا مرکز ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں آباد یہ خوبصورت شہر ایک سوچے سمجھے قومی منصوبے کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو ایک جدید اور منظم وفاقی دارالحکومت فراہم کیا۔
14 اگست 1947 کو قیام پاکستان کے وقت ملک کے پہلے وفاقی دارالحکومت کے طور پر ساحلی شہر کراچی کا انتخاب کیا گیا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انتظامی، تجارتی اور اسٹریٹجک ضروریات کے باعث ایک نیا اور منظم دارالحکومت قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔
سنہ 1960 کی دہائی میں شروع ہونے والا یہ سفر اگست 1967 میں اسلام آباد کی دارالحکومت کے طور پر منتقلی پر مکمل ہوا اور آج یہ شہر دنیا کے خوبصورت ترین اور بہترین منصوبابندی سے تعمیر شدہ دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے۔
اہم تاریخی مراحل اور سفر
پاکستان کے قیام کے فوری بعد 14 اگست 1947 کو کراچی کو ملک کا پہلا وفاقی دارالحکومت مقرر کیا گیا۔ تاہم چند سال بعد جب ایک نيا اور منضبط دارالحکومت بنانے کا فیصلہ ہوا تو 24 فروری 1960 کو وفاقی کابینہ نے اس نئے شہر کا نام ’ اسلام آباد‘ رکھنے کی باقاعدہ منظوری دی۔
مزید پڑھیے: مارگلہ ویو پوائنٹ پر عوام کو کون سی سہولیات مہیا کی جائیں گی؟
اس نئے دارالحکومت کی سائنسی اور منظم انداز میں تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کے لیے 14 جون 1960ء کو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسی سال اکتوبر 1960 میں معروف یونانی ماہرِ تعمیرات سی اے ڈوکسیادیس کے تیار کردہ عالمی معیار کے ماسٹر پلان کے تحت شہر کی تعمیر کا باقاعدہ اور عملی آغاز کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری رہا اور 1963ء میں اسلام آباد کا پہلا رہائشی سیکٹر جی 6 مکمل طور پر تیار کر لیا گیا جس کے بعد سرکاری ملازمین کی یہاں منتقلی اور آباد کاری شروع ہوئی۔ بالآخر مرحلہ وار منتقلی کے بعد 14 اگست 1967 میں اسلام آباد کو باقاعدہ اور قانونی طور پر پاکستان کا مستقل اور فعال وفاقی دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔ اور یہ قیام پاکستان کی 20ویں سالگرہ کے دن منتخب ہوا۔
کراچی سے دارالحکومت منتقلی کے بنیادی اسباب
اگرچہ کراچی کے پاس دارالحکومت کے لیے ابتدائی انفراسٹرکچر موجود تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہاں کئی انتظامی اور جغرافیائی چیلنجز سامنے آنے لگے۔
کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز تھا جس کی وجہ سے کاروباری طبقے اور حکومتی پالیسی سازوں کا غیر ضروری اختلاط ہو رہا تھا اور حکومتی امور متاثر ہو رہے تھے۔
اس کے علاوہ سمندر کے بالکل کنارے واقع ہونے کی وجہ سے کراچی بحری حملوں کے لیے دفاعی لحاظ سے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا جبکہ پوٹھوہار کا خطہ دفاعی اعتبار سے انتہائی محفوظ اور پاک فوج کے جی ایچ کیو (راولپنڈی) کے بالکل قریب تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کے سبز اثاثوں اور مارگلہ ہلز کو محفوظ کرنے کا تاریخی فیصلہ کرلیا گیا
قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی بڑی تعداد کی کراچی آمد اور وہاں کے شدید گرم و مرطوب موسم نے بھی حکومت کو ایک نئے، پرسکون اور معتدل آب و ہوا والے شہر کی تلاش پر مجبور کیا۔
کیپیٹل کمیشن کا قیام اور مقام کا انتخاب
ان تمام عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے سنہ 1958 میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے نئے دارالحکومت کا موزوں ترین مقام تلاش کرنے کے لیے جنرل یحییٰ خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ’کیپیٹل کمیشن’ قائم کیا۔ اس کمیشن نے ملک کے مختلف علاقوں کا تفصیلی سروے کرنے کے بعد سطح مرتفع پوٹھوہار کا انتخاب کیا جو مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں واقع تھا اور جہاں کا موسم پورا سال خوشگوار رہتا تھا۔ 24 فروری 1960 کو وفاقی کابینہ نے اس نئے شہر کا نام ‘اسلام آباد’ رکھنے کی منظوری دی جس کی تجویز عارف والا کے ایک سکول ٹیچر قاضی عبدالرحمن نے پیش کی تھی۔
شہر کا ماسٹر پلان اور سی ڈی اے کا کردار
اسلام آباد کو ایک جدید اور عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے اس کا ماسٹر پلان تیار کرنے کی ذمہ داری معروف یونانی ماہرِ تعمیرات اور شہری منصوبہ ساز کونسٹنٹینوس اے ڈوکسیادیس اور ان کی فرم کو دی گئی۔ ڈوکسیادیس نے شہر کو ایک خاص گرڈ سسٹم کے تحت مختلف سیکٹروں (A سے I) میں تقسیم کیا اور رہائشی، تجارتی، تعلیمی اور صنعتی علاقوں کی حد بندی واضح کی۔
واضح رہے کہ اس تمام منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور زمین کے حصول سے لے کر تعمیراتی کام کی نگرانی کے لیے 14 جون 1960 کو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد اکتوبر 1960 میں شہر کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
تعمیراتی مراحل اور سنہ 1967 میں حتمی منتقلی
جب تک اسلام آباد کے بنیادی ڈھانچے اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر جاری تھی تو راولپنڈی کو عارضی طور پر پاکستان کا عبوری دارالحکومت بنایا گیا تھا تاکہ حکومتی امور متاثر نہ ہوں۔
سنہ 1963 میں اسلام آباد کا پہلا رہائشی سیکٹر G-6 مکمل طور پر تیار ہوا اور وہاں سرکاری ملازمین کی آباد کاری شروع کی گئی۔ اس کے بعد مرحلہ وار تمام وفاقی وزارتوں، غیر ملکی سفارت خانوں اور سرکاری اداروں کی کراچی اور راولپنڈی سے اسلام آباد منتقلی جاری رہی۔ بالآخر اگست 1967 میں اسلام آباد نے باقاعدہ اور قانونی طور پر پاکستان کے مستقل وفاقی دارالحکومت کی حیثیت اختیار کر لی۔
موجودہ اسلام آباد کی اہمیت اور خصوصیات
آج کا اسلام آباد نہ صرف پاکستان کے سیاسی و انتظامی اقتدار کا مرکز ہے بلکہ اپنی دلکش قدرتی خوبصورتی اور طرزِ تعمیر کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔
شاہراہ دستور پر واقع ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ اور پاک سیکرٹریٹ اس کی مرکزی حیثیت کی علامت ہیں، جبکہ ‘ڈپلومیٹک اینکلیو’ میں تمام غیر ملکی سفارت خانے قائم ہیں۔
علاوہ ازیں شاہ فیصل مسجد جیسا تعمیراتی شاہکار اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک، دامن کوہ، راول جھیل اور شکر پڑیاں جیسے قدرتی مقامات اس شہر کو دنیا کے سرسبز ترین اور خوبصورت دارالحکومتوں کی صف میں ممتاز کرتے ہیں۔
جدید دور کے چیلنجز اور ماسٹر پلان میں تبدیلیاں
اگرچہ اسلام آباد کو ایک محدود آبادی اور مخصوص انتظامی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور تیز رفتار شہری ترقی کے باعث شہر کو کئی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ غیر قانونی تجاوزات، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور ابتدائی ماسٹر پلان کی بار بار خلاف ورزیوں نے شہر کے قدرتی حسن اور ڈھانچے پر دباؤ بڑھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایس سی او اجلاس میں شریک سربراہان نے اسلام آباد کی خوبصورتی کی تعریف کی، وزیراعظم شہباز شریف
ماہرین کے مطابق اسلام آباد کے اصل ماحول اور خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈوکسیادیس کے ماسٹر پلان کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ رکھنا لازمی ہے۔
تاریخی فیصلے کی اہمیت
مؤرخین اور ماہرین عمرانیات کے مطابق 1959ء میں کراچی سے اسلام آباد دارالحکومت کی منتقلی کا فیصلہ پاکستان کی انتظامی اور جغرافیائی تاریخ کا ایک اہم ترین اور دور اندیشانہ قدم ثابت ہوا۔ اس اقدام نے نہ صرف ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام کو ایک منظم، محفوظ اور مستقل مرکز فراہم کیا بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کو خطے کی معیشت، تعلیم اور ثقافت کا سب سے بڑا محور بھی بنا دیا۔










