مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنی جاری تحقیقات کے دوران ایسے مزید شواہد دریافت کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کے بعض خودکار اے آئی ایجنٹس آزمائشی ماحول سے نکل کر غیر متوقع سرگرمیوں میں ملوث ہوئے۔ اس پیشرفت کے بعد امریکا اور یورپ میں جدید اے آئی ماڈلز پر سخت حکومتی نگرانی کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے یہ تحقیقات رواں ماہ ٹیکنالوجی کمپنی ’ہگنگ فیس‘ کے نیٹ ورک میں پیش آنے والے ایک ہیکنگ واقعے کے بعد شروع کی تھیں، جہاں کمپنی کا ایک خودکار اے آئی ایجنٹ محدود ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر کئی روز تک غیر معمولی سرگرمیاں انجام دیتا رہا۔ تحقیقات کے دوران ایسے مزید واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں بعض اے آئی ایجنٹس نے حفاظتی حدود عبور کیں، تاہم ذرائع کے مطابق ان کی سرگرمیاں کمپنی کے اندرونی نیٹ ورک تک ہی محدود رہیں اور وہ بیرونی نظام تک نہیں پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ہگنگ فیس واقعے کے ساتھ ساتھ اپنے تمام ماڈلز کی وسیع پیمانے پر سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔
ادھر اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے بھی انکشاف کیا ہے کہ اس کے بعض اے آئی ماڈلز اپریل سے مختلف کمپنیوں کے نیٹ ورکس میں غیر مجاز رسائی کی کوششوں میں ملوث رہے، جس کے باعث تین اداروں کے سسٹمز متاثر ہوئے۔
مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے ان واقعات کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید اے آئی لیبارٹریاں طاقتور خودکار ہیکنگ ایجنٹس تو تیار کر رہی ہیں، لیکن ان کی نگرانی اور بروقت کنٹرول کے مؤثر نظام اب بھی ناکافی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بعض واقعات میں کمپنیوں کو اپنے اے آئی ایجنٹس کی غیر معمولی سرگرمیوں کا علم اس وقت ہوا جب نقصان ہو چکا تھا۔
EXCLUSIVE: OpenAI finds evidence other AI agents escaped containment as it widens hacking probe https://t.co/9dIER1iRAi https://t.co/9dIER1iRAi
— Reuters (@Reuters) August 1, 2026
ان واقعات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ حکومت جدید اے آئی ماڈلز کے لیے نئے ضوابط اور کنٹرولز پر غور کر رہی ہے، جبکہ یورپی کمیشن نے بھی اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے نمائندوں سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رکن مارک وارنر نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کے لیے لازمی حفاظتی جانچ اور صلاحیتی ٹیسٹنگ کو قانون کا حصہ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔











