بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا نیا مرکز بننے لگا،امریکی رپورٹ

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکی تحقیقی ادارے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جولائی کے آخری 2 ہفتوں کے دوران افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروپوں نے اپنی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ضلعی مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے قبضہ بھی کر لیا گیا۔

امریکی تحقیقی ادارے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے ذیلی تحقیقی جریدے لانگ وار جرنل کی رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں نے جولائی کے دوسرے نصف میں اپنی کارروائیاں تیز کر دیں، جس سے صوبے میں طالبان پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت، افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان؟

رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو نئے قائم ہونے والے مزاحمتی گروپ ’سپاہیانِ میہن‘ نے تقریباً 25 جنگجوؤں کے ساتھ یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا اور چند گھنٹوں تک اس پر کنٹرول برقرار رکھا، جس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ضلعی مرکز پر عارضی طور پر طالبان کا کنٹرول ختم ہوا۔

طالبان حکومت نے ضلعی مرکز پر عارضی قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے کے وقت مقامی حکام وہاں موجود نہیں تھے اور بعد میں حملے میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ طالبان کے چیف آف آرمی اسٹاف فصیح الدین فطرت نے بھی ضلع کا دورہ کیا اور انہی دعوؤں کو دہرایا۔

تاہم سپاہیانِ میہن کے سربراہ قیوم ملنگ نے 22 جولائی کو جاری کیے گئے ایک صوتی پیغام میں طالبان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کسی بھی جنگجو کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے بعد بدخشاں کے مختلف علاقوں میں مزید حملے کیے گئے۔ 23 جولائی کو افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے دعویٰ کیا کہ اس نے زیبک ضلع میں طالبان کی کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور جوابی حملوں کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ گروپ نے لڑائی کے دوران طالبان کے دو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔

اسی روز احمد مسعود کی قیادت میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے کران و منجان ضلع میں طالبان کی ایک چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مختلف مزاحمتی گروہوں کے درمیان باقاعدہ مشترکہ فوجی کارروائیوں کے شواہد موجود نہیں، تاہم ان کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے مستقبل میں زیادہ تعاون کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp