امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ امریکی اور اسرائیلی مفادات، خصوصاً توانائی کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی اور ضرورت پڑنے پر امریکا مزید سخت حملے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے، تاہم وہ اب بھی محدود جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر مذاکرات میں بداعتمادی اور غلط بیانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے رویے سے ان کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔
President Trump delivers a national address following a successful strike on three nuclear facilities in Iran — Fordow, Natanz, and Esfahan. pic.twitter.com/3aRCMoScgs
— John F. Kennedy Jr (@Reall_JFK_) August 1, 2026
دوسری جانب ایران کے ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایرانی تنصیبات پر حملہ کیا تو تہران امریکی اور اسرائیلی توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افواج نے اس مقصد کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رکھی ہے اور اس پر عمل درآمد کی مکمل صلاحیت بھی موجود ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف خطے کے ممالک سے متعلق ہے اور امریکا کو اس میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق تہران اب بھی خود کو واشنگٹن کے ساتھ تنازع کی کیفیت میں سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو پہلی بار ایسے امریکی صدر کا سامنا ہے جو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اب پرانے انداز میں معاہدوں کی خلاف ورزی یا عالمی برادری کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو امریکی فوج کی غیر معمولی طاقت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ آپریشنز نے ثابت کیا ہے کہ امریکی افواج جدید جنگی صلاحیتوں میں دنیا بھر میں منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔
خلیج عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم حملے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔













