سپریم کورٹ نے فوت شدہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ متوفی ملازم کی پنشن اور سروس مراعات کی قانونی حق دار صرف اس کی بیوہ یا متعلقہ قوانین کے تحت نامزد شخص ہو سکتا ہے، صرف قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر بہن بھائی پنشن کے حقدار نہیں بنتے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور فوت شدہ پیسکو ملازم کے بہن بھائیوں کی جانب سے وراثت نامہ جاری کرنے کی اپیل مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر مقدمات فکس کرنے کا سلسلہ ختم، رجسٹرار سپریم کورٹ
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پنشن کی ادائیگی وراثتی قوانین کے بجائے متعلقہ ادارے کے سروس رولز اور نافذ العمل قوانین کے مطابق کی جاتی ہے، اس لیے صرف قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو پنشن کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فوت شدہ ملازم کی پنشن اور متعلقہ مراعات کے حقدار وہی افراد ہوں گے جنہیں قانون یا متعلقہ قواعد کے تحت نامزد کیا گیا ہو، جبکہ بہن بھائی محض وراثت کی بنیاد پر پنشن کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے بہن بھائیوں کی اپیل خارج کر دی۔













