سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فوت شدہ ملازم کی پنشن اور مراعات پر صرف بیوہ یا نامزد شخص کا حق

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے فوت شدہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ متوفی ملازم کی پنشن اور سروس مراعات کی قانونی حق دار صرف اس کی بیوہ یا متعلقہ قوانین کے تحت نامزد شخص ہو سکتا ہے، صرف قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر بہن بھائی پنشن کے حقدار نہیں بنتے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور فوت شدہ پیسکو ملازم کے بہن بھائیوں کی جانب سے وراثت نامہ جاری کرنے کی اپیل مسترد کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر مقدمات فکس کرنے  کا سلسلہ ختم، رجسٹرار سپریم کورٹ

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پنشن کی ادائیگی وراثتی قوانین کے بجائے متعلقہ ادارے کے سروس رولز اور نافذ العمل قوانین کے مطابق کی جاتی ہے، اس لیے صرف قانونی وارث ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو پنشن کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فوت شدہ ملازم کی پنشن اور متعلقہ مراعات کے حقدار وہی افراد ہوں گے جنہیں قانون یا متعلقہ قواعد کے تحت نامزد کیا گیا ہو، جبکہ بہن بھائی محض وراثت کی بنیاد پر پنشن کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے بہن بھائیوں کی اپیل خارج کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp