آئرلینڈ کے معروف گلوکار، نغمہ نگار، اداکار اور آسکر ایوارڈ یافتہ فنکار گلین ہینسارڈ 56 برس کی عمر میں موٹر سائیکل حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔
ان کی وفات سے آئرش اور عالمی موسیقی کی دنیا ایک باصلاحیت فنکار سے محروم ہوگئی، جس نے اپنی منفرد آواز، گیت نگاری اور سماجی خدمات کے ذریعے لاکھوں دل جیتے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار ایتھن براؤن 52 برس کی عمر میں چل بسے
گلین ہینسارڈ نے اپنے فنی سفر کا آغاز ڈبلن کی گرافٹن اسٹریٹ پر بطور اسٹریٹ سنگر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے راک بینڈ ’دی فریمز‘ قائم کیا، جو ابتدا میں مشکلات کا شکار رہا۔
تاہم مسلسل جدوجہد کے بعد آئرلینڈ کے کامیاب ترین بینڈز میں شامل ہوگیا، ان کے البمز فار دا برڈز اور ’برن دا میپس‘ نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
We lost a great talent and gentleman. I enjoyed his brilliant music and saw him in concert several times. I also loved his documentary film ‘The Camino Voyage”. Glen, may you now be in the light of the Lord’s Face. 🙏☘️https://t.co/qHzqnhTGXI
— Fenius Farsaid (@farsaid_fenius) July 29, 2026
ہینسارڈ نے 1991 کی فلم ’دی کمٹمنٹس‘ سے اداکاری میں قدم رکھا، لیکن انہیں عالمی شہرت 2006 کی فلم ’ونس‘ سے ملی، جس میں انہوں نے چیک گلوکارہ مارکیتا ارگلووا کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔
فلم کا مشہور گیت ’فالنگ سلولی‘ 2008 میں بہترین اوریجنل سونگ کا آسکر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوا، جس نے انہیں بین الاقوامی سطح پر منفرد مقام دلایا۔
انہوں نے بعد ازاں سولو کیریئر پر توجہ مرکوز کی اور کئی کامیاب البمز جاری کیے۔ ان کا ایک البم گریمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوا، جبکہ ان کی آخری موسیقی ریلیز ’ڈونٹ سیٹل‘ تھی، جس میں انہوں نے اپنے کیریئر کے مقبول گیتوں کو نئے انداز میں پیش کیا۔

شہرت کے باوجود گلین ہینسارڈ اپنی سادہ زندگی اور عوامی وابستگی کے لیے مشہور رہے، وہ ہر سال کرسمس کے موقع پر ڈبلن کی سڑک پر خیراتی مقصد کے لیے گاتے تھے اور بے گھر افراد کی مدد کرنے والے اداروں کے لیے فنڈز جمع کرتے تھے۔
وہ سماجی مسائل، خصوصاً بے گھر افراد کے حقوق کے لیے بھی سرگرم آواز تھے۔
مزید پڑھیں: معروف مصنف اور دستاویزی فلموں کے براڈکاسٹر سر ڈیوڈ ایٹنبرو 100 برس کے ہوگئے، شاہ چارلس کا خراج تحسین
21 اپریل 1970 کو ڈبلن میں پیدا ہونے والے ہینسارڈ نے کم عمری میں تعلیم چھوڑ کر موسیقی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔
وہ اپنی وفات سے چند گھنٹے قبل بھی ڈبلن میں روایتی موسیقی کی ایک محفل میں شریک تھے، ان کے پسماندگان میں اہلیہ مائرے ساریتسا، ایک بیٹا، 4 بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔
ان کی وفات پر دنیا بھر کے فنکاروں، مداحوں اور موسیقی سے وابستہ شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔













