عالمی ادویہ سازی کی 2 بڑی کمپنیوں (AstraZeneca) اور (Bristol Myers Squibb) کے درمیان ممکنہ انضمام کی اطلاعات نے بین الاقوامی مالیاتی اور فارماسیوٹیکل حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کمپنیوں کے درمیان قریباً 400 ارب ڈالر مالیت کے ممکنہ معاہدے پر ابتدائی سطح کی بات چیت جاری ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کا نیا باب، 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ادویہ سازی کی صنعت کی تاریخ کے سب سے بڑے انضمام میں شمار ہوگا۔ مجوزہ انضمام کے نتیجے میں کینسر، دل کے امراض، امیونولوجی اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں تحقیق اور نئی ادویات کی تیاری کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
JUST IN: AstraZeneca is reportedly in talks with Bristol Myers Squibb on a $400 billion megadeal, one of the largest mergers in history, according to the Financial Times. pic.twitter.com/Y6fGkRBQEO
— HIT.com (@HIT) August 2, 2026
تاہم دونوں کمپنیوں کی جانب سے تاحال مذاکرات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بات چیت آگے بڑھتی ہے تو اس معاہدے کو امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک کے مسابقتی قوانین کے تحت سخت جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:تخلیقی مصنوعی ذہانت کے پیٹنٹ میں چین نے دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا
تجزیہ کاروں کے مطابق اس ممکنہ انضمام کا مقصد بڑھتے ہوئے تحقیقی اخراجات، پیٹنٹس کی مدت ختم ہونے اور عالمی ادویہ سازی کی صنعت میں بڑھتے ہوئے مقابلے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد دونوں کمپنیوں کے شیئرز سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔














