کینیڈا جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر: اسٹڈی، ورک اور وزٹ ویزا کی پراسیسنگ مدت میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے؟

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگر آپ کینیڈا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے، ملازمت کرنے یا اہل خانہ سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے نہایت اہم ہے۔ کینیڈین امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا نے پاکستان سے جمع کرائی جانے والی مختلف ویزا درخواستوں کی متوقع پراسیسنگ مدت میں باقاعدہ اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد پاکستانی درخواست گزاروں کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ انتظار کرنا پڑےگا۔

ویزا کیٹیگریز کے نئے پراسیسنگ اوقات اور تفصیلی جائزہ

کینیڈین امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق پاکستان سے جمع کرائی جانے والی اسٹڈی پرمٹ کی درخواستوں کی متوقع پراسیسنگ مدت 6 ہفتوں سے بڑھا کر 7 ہفتے کر دی گئی ہے، جبکہ ورک پرمٹ کے لیے انتظار کا وقت 10 ہفتوں سے بڑھ کر 11 ہفتے ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: کینیڈا: بھارتی طلبا کی ویزا درخواستوں کو مسترد کرنے کی شرح میں 74 فیصد اضافے کی وجہ کیا بنی؟

اسی طرح عام وزیٹر ویزا کی پراسیسنگ مدت 40 دن سے بڑھ کر 43 دن اور والدین و دادا دادی کے لیے مخصوص سپر ویزا کی مدت 194 دن سے بڑھ کر 196 دن تک پہنچ گئی ہے۔

پراسیسنگ ٹائم کے آغاز کی اہم فنی وضاحت

امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ ویب سائٹ پر ظاہر کیے گئے پراسیسنگ اوقات صرف تخمینی مدت ہوتی ہے اور ان کا شمار اس دن سے شروع ہوتا ہے جب کینیڈین حکام کو درخواست گزار کا مکمل فارم اور بائیومیٹرکس (فنگر پرنٹس اور تصاوير) موصول ہو جاتے ہیں۔

چونکہ پاکستان میں VFS سينٹرز پر بائیومیٹرکس کی اپائنٹمنٹ حاصل کرنے میں بھی کچھ دن لگتے ہیں، اس لیے درخواست کا کل وقت اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

عالمی دباؤ اور بیک لاگ میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر کینیڈین امیگریشن نظام پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں افراد کی آمد اور درخواستوں کے شدید بیک لاگ کی وجہ سے امیگریشن دفاتر پر کام کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔

اس کے علاوہ ہر سال ستمبر کے تعلیمی سیشن سے قبل اسٹڈی پرمٹس اور گرمیوں کی تعطیلات کے دوران وزٹ اور ورک ویزوں کی درخواستوں کا غیر معمولی سيلاب آتا ہے جو اس تاخیر کا بنیادی سبب بنتا ہے۔

طلبہ اور ملازمین کے تعلیمی و معاشی شیڈول پر اثرات

اس تاخیر کا سب سے بڑا اثر ان طلبہ پر پڑ سکتا ہے جن کی یونیورسٹیز یا کالجز کی کلاسز شروع ہونے والی ہیں۔ اگر ویزا بروقت نہ ملے تو طلبہ کو اپنا سمسٹر آئندہ انٹیک (مثلاً جنوری) کے لیے ملتوی کروانا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح جاب آفر حاصل کرنے والے افراد کے لیے بھی آفر لیٹر کی درستگی کی تاریخ ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے احمد بٹ کو کینیڈا کی ایک معروف یونیورسٹی میں ستمبر 2026 انٹیک کے لیے جزوی میرٹ اسکالرشپ پر داخلہ ملا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی تمام شرائط پوری کردی ہیں، فیس کا مطلوبہ حصہ بھی جمع کرا دیا ہے اور رہائش سمیت دیگر سفری انتظامات بھی مکمل کر لیے ہیں۔ اب انہیں صرف اسٹڈی پرمٹ کا انتظار ہے۔

احمد کے مطابق اگر ویزا مقررہ وقت تک جاری نہ ہو سکا تو وہ ستمبر میں شروع ہونے والی کلاسز میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ یونیورسٹی کی پالیسی کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو اکتوبر تک رپورٹ کرنے کی مہلت دی جا سکتی ہے، لیکن اگر وہ اس مدت کے اندر بھی کیمپس نہ پہنچ سکیں تو ان کا داخلہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ’یہ ویٹنگ ٹائم بیشک بہت زیادہ نہیں بڑھایا گیا، مگر اس کے علاوہ بھی اتنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں کہ آئے روز ایک نیا رول آجاتا ہے، اور یہی چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔‘

ایسی صورت میں احمد نہ صرف اپنی اسکالرشپ سے محروم ہو سکتے ہیں بلکہ انہیں اگلے انٹیک کے لیے دوبارہ درخواست دینا پڑے گی۔ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوگی کہ انہیں دوبارہ اسی پروگرام میں داخلہ یا وہی اسکالرشپ مل سکے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی راحیلہ جبار کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ ان کے شوہر اس وقت کینیڈا کی ایک یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کررہے ہیں۔ گزشتہ 2 برسوں کے دوران راحیلہ نے اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا منتقل ہونے کے لیے مختلف مواقع پر اسپاؤس ویزا کے لیے کوشش کی، تاہم مختلف امیگریشن پیچیدگیوں اور دستاویزی معاملات کے باعث انہیں اب تک ویزا نہیں مل سکا۔

اسی دوران راحیلہ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر کینیڈا کی ایک آئی ٹی کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست دی، جہاں کامیاب انٹرویوز کے بعد انہیں جاب آفر بھی موصول ہوگئی۔ کمپنی نے انہیں مقررہ مدت کے اندر جوائن کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم حالیہ پراسیسنگ تاخیر نے ان کی تشویش بڑھا دی ہے۔

راحیلہ کو خدشہ ہے کہ اگر ورک پرمٹ بروقت جاری نہ ہوا تو وہ مقررہ تاریخ تک کمپنی جوائن نہیں کر سکیں گی۔ ایسی صورت میں کمپنی اسامی کو کسی دوسرے امیدوار سے پُر کر سکتی ہے یا جاب آفر واپس لینے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔

2 سال سے کینیڈا جانے کی کوششوں کے بعد حاصل ہونے والا یہ کیریئر کا موقع بھی تاخیر کی نذر ہونے کا خدشہ ان کے لیے سب سے بڑی پریشانی بن گیا ہے۔

غلطیوں سے بچاؤ اور ویزا منظور کروانے کی اہم تدابیر

امیگریشن ماہرین نے پاکستانی درخواست گزاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی درخواستیں آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر فوری جمع کروائیں۔ ویزا درخواست کے ساتھ تمام مطلوبہ مالی دستاویزات، جائیداد کی تفصیلات، بینک اسٹیٹمنٹ اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ پہلی بار میں ہی مکمل اور درست فراہم کریں۔ کسی بھی ناقص دستاویز یا اضافی معلومات کی طلب پراسیسنگ کو مزید مہینوں تک سست کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کینیڈا نے بنا دستاویزات کام کرنے والے غیرملکیوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا

سرکاری ہدایات پر عملدرآمد کی تاکید

واضح رہے کہ کینیڈا اب بھی پاکستانی طلبہ کے لیے پسندیدہ ترین ملک شمار ہوتا ہے، تاہم ویزا قوانین اور پراسیسنگ کے اوقات باقاعدگی سے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ تمام درخواست گزاروں کو کسی بھی غیر مصدقہ معلومات، ایجنٹوں کے دعوؤں یا افواہوں کے بجائے سرکاری ویب سائٹ سے ہی تازہ ترین معلومات اور ہدایات حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے صوبے بننے سے گورننس بہتر ہوگی اور فنڈز گراس روٹ تک پہنچیں گے، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ورلڈ جوجِٹسو چیمپئن شپ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی، 2 گولڈ اور ایک برونز میڈل جیت لیے

امریکا، یونان اور فرانس میں جنگلاتی آگ بے قابو، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 18 فلسطینی شہید، انسانی بحران سنگین ہوگیا

اسپین میں تارکین وطن کا بڑا بحران، سیوٹا میں ہزاروں افراد کی یلغار پر یورپی یونین میں ہنگامی مشاورت

ویڈیو

نئے صوبے بننے سے گورننس بہتر ہوگی اور فنڈز گراس روٹ تک پہنچیں گے، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

آبنائے ہرمز اور جوہری معاہدے پر پیشرفت کی امید، امریکا اور ایران مذاکرات کے لیے تیار

52 برس بعد گھر میں بیٹی کی پیدائش، خاندان کی خوشی دیدنی، ویڈیو وائرل

کالم / تجزیہ

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ

غزہ کے بچوں کی دلدوز شاعری   

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور