چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے پیر کے روز اپنے اب تک کے سب سے بڑے اور طاقتور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل کیو وین 3.8 میکس متعارف کرا دیا، جس کا حجم گزشتہ ماہ پیش کیے گئے مقامی حریف مون شاٹ اے آئی کے کیمی کے 3 ماڈل کے قریب ہے۔
چین کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس وقت مصنوعی ذہانت کے ایسے طاقتور ماڈلز تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جو زیادہ صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ کم لاگت میں بھی چلائے جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ سیک نے نیا وی فور فلیش اے پی آئی متعارف کرا دیا، کم وسائل میں زیادہ طاقتور اے آئی ماڈل کا دعویٰ
علی بابا کے مطابق کیو وین 3.8 میکس میں 2.4 کھرب (ٹریلین) پیرا میٹرز موجود ہیں، جبکہ مون شاٹ اے آئی کے کیمی کے 3 ماڈل میں 2.8 کھرب پیرا میٹرز ہیں۔ پیرا میٹرز وہ عددی ترتیبات ہوتی ہیں جو ماڈل ڈیٹا سے سیکھتا ہے اور انہی کی بنیاد پر نمونوں کو پہچاننے، سوالات کے جواب دینے اور مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔
اگرچہ زیادہ پیرا میٹرز کا مطلب لازمی طور پر بہتر کارکردگی نہیں ہوتا، تاہم یہ کسی بھی جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی طاقت اور تربیت کے پیمانے کا اہم اشاریہ سمجھے جاتے ہیں۔
چینی کمپنیاں اپنے ماڈلز کے پیرا میٹرز کی تعداد ظاہر کرتی ہیں تاکہ پروگرام بنانے والے افراد اور ادارے ان کی صلاحیت کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔ ان کے زیادہ تر ماڈلز اوپن ویٹ نوعیت کے ہوتے ہیں، یعنی ان کی بنیادی تربیت یافتہ ترتیبات ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال یا تبدیل کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
اس کے برعکس، امریکی کمپنیاں اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل اپنے بند سورس ماڈلز کے پیرا میٹرز کی تعداد ظاہر نہیں کرتیں۔
نئے ماڈل کو ارینا اے آئی نامی پلیٹ فارم پر متعارف کرایا گیا، جہاں یہ متن پر مبنی ماڈلز کی درجہ بندی میں سب سے بہتر چینی ماڈل بن گیا، تاہم مجموعی عالمی درجہ بندی میں یہ اب بھی اینتھروپک کے کلاڈ فیبل 5 اور اس کے تین اوپس ماڈلز سے پیچھے ہے۔
تصاویر اور دیگر بصری مواد کا تجزیہ کرنے والے ماڈلز کی عالمی درجہ بندی میں کیو وین 3.8 میکس دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ پہلے نمبر پر بھی اینتھروپک کا کلاڈ فیبل 5 موجود ہے۔
کیو وین 3.8 میکس اور کیمی کے 3 دونوں ایک وقت میں متن، تصاویر اور ویڈیو پر کام کرنے کے ساتھ 10 لاکھ ٹوکنز تک مواد کو ایک ساتھ پراسیس کر سکتے ہیں، جس کے باعث طویل قانونی دستاویزات، بڑے سافٹ ویئر کوڈ اور سینکڑوں صفحات پر مشتمل فائلوں کا تجزیہ ممکن ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتھروپک کا علی بابا پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام، ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنانے کا دعویٰ
علی بابا کے مطابق اس ماڈل میں مکسچر آف ایکسپرٹس طرزِ تعمیر استعمال کی گئی ہے، جس میں ہر درخواست پر پورا ماڈل فعال کرنے کے بجائے صرف متعلقہ حصے کام کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت مجموعی 2.4 کھرب پیرا میٹرز میں سے صرف 95 ارب پیرا میٹرز ایک وقت میں استعمال ہوتے ہیں، جس سے لاگت کم اور رفتار زیادہ ہوجاتی ہے۔
کمپنی نے دعویٰ کیا کہ اس نئے ماڈل نے ایک سافٹ ویئر انجینیئرنگ منصوبہ صرف 16 دن میں مکمل کیا۔
علی بابا کا کہنا ہے کہ کیو وین 3.8 میکس آئندہ ہفتے علی بابا کلاؤڈ ماڈل اسٹوڈیو پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔














