امریکی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی انتھروپک نے چینی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا پر اپنی اے آئی ٹیکنالوجی غیرقانونی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ایک اور معاہدے کے لیے پرامید، ٹیک کمپنی انتھروپک سیکیورٹی رسک کے بجائے مفید قرار
انتھروپک کے مطابق علی بابا سے منسلک عناصر نے ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنا کر کمپنی کے اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ تک رسائی حاصل کی اور اس کی صلاحیتوں کو نقل کرنے کی کوشش کی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتھروپک نے امریکی کانگریس کے دو ارکان کو ارسال کیے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا ہے کہ علی بابا سے وابستہ آپریٹرز نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کلاڈ کے ساتھ تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ تعاملات کیے جسے کمپنی نے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی غیرقانونی مہم قرار دیا ہے۔
کانگریس سے کارروائی کا مطالبہ
سان فرانسسکو میں قائم کمپنی نے امریکی سینیٹرز ٹم اسکاٹ اور الزبتھ وارن کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا کہ ایسی کارروائیوں میں ملوث کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور امریکی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔
انتھروپک کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی دراصل ڈسٹلیشن اٹیک کی ایک مثال ہے جس میں طاقتور اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے نسبتاً چھوٹے اور کمزور ماڈلز کو تربیت دی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: مائیکروسافٹ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑا قدم، انتھروپک ٹیکنالوجی کو کوپائلٹ میں شامل کرنے کا اعلان
کمپنی کے مطابق حملہ آوروں نے کلاڈ کی ان خصوصیات کو ہدف بنایا جو پیچیدہ اور طویل نوعیت کے مسائل حل کرنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے متعلق ہیں۔
قومی سلامتی کے خدشات
انتھروپک نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف امریکی ٹیکنالوجی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔
کمپنی نے امریکی محکمہ دفاع کے ان دعوؤں کا حوالہ بھی دیا جن میں علی بابا، بی وائی ڈی اور بائیڈو سمیت بعض بڑی چینی کمپنیوں کو چینی فوج کے ساتھ روابط رکھنے والی کمپنیوں میں شامل کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پینٹاگون کے جدید صلاحیتوں کو خفیہ نیٹ ورکس میں شامل کرنے کے لیے اے آئی کمپنیوں سے معاہدے
انتھروپک کے مطابق ایسے حملے امریکی تحقیق اور ترقی پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کو جغرافیائی حریف ممالک کے لیے بالواسطہ سبسڈی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
علی بابا کا مؤقف
یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب علی بابا امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے چینی فوج سے مبینہ تعلقات رکھنے والی کمپنیوں کی فہرست سے اپنا نام نکلوانے کے لیے قانونی کوششیں کر رہی ہے۔
علی بابا ماضی میں چینی فوج سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کر چکی ہے تاہم کمپنی نے انتھروپک کے تازہ الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
الزامات سامنے آنے کے بعد ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں علی بابا کے حصص کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
چینی اے آئی کمپنیوں پر پہلے بھی الزامات
انتھروپک اس سے قبل بھی چینی اے آئی کمپنیوں ڈیپ سیک، مون شاٹ اور منی میکس پر اپنے ماڈل کلاڈ کے نتائج استعمال کر کے اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کرنے کے الزامات عائد کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’میں نے ہر اصول کی خلاف ورزی کی‘، کمپنی کا پورا ڈیٹا بیس ٹھکانے لگانے کے بعد اے آئی ایجنٹ کلاڈ کا اعتراف
واضح رہے کہ انتھروپک دنیا کی نمایاں اے آئی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے اوپن اے آئی کے بعد مصنوعی ذہانت کے شعبے کی اہم ترین کمپنیوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔














