دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل، ایمیزون، مائیکروسافٹ، گوگل اور میٹا نے اپنی تازہ مالیاتی رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھیں گی تاہم سرمایہ کار اب صرف وعدوں کے بجائے اس سرمایہ کاری کے عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
مالیاتی رپورٹس کے بعد سرمایہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ ڈیٹا سینٹرز، جدید چپس اور اے آئی ماہرین پر ہونے والے بھاری اخراجات کا منافع کب سامنے آئے گا۔ اسی خدشے کے باعث گزشتہ چند دنوں میں کئی بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا۔
اے آئی چیٹ بوٹس مقبول ضرور، لیکن آمدنی اب بھی محدود
رپورٹ کے مطابق سنہ 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد تقریباً تمام بڑی کمپنیوں نے اپنے اپنے اے آئی چیٹ بوٹس متعارف کرائے جن میں گوگل کا جیمنائی، میٹا اے آئی، ایمیزون کا روفس اور ایپل کا نیا سری شامل ہیں۔
تاہم یہ تمام اے آئی مصنوعات اگرچہ صارفین میں مقبول ہو رہی ہیں لیکن فی الحال ان سے حاصل ہونے والی آمدنی ان پر آنے والی لاگت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے رواں سہ ماہی میں 118 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی مگر اے آئی پر غیر معمولی اخراجات کے باعث پہلی مرتبہ اس کا فری کیش فلو منفی ہوگیا یعنی کمپنی نے جتنی آمدنی حاصل کی، اس سے زیادہ خرچ کر دیا۔
مزید پڑھیے: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
اسی طرح میٹا نے 61 ارب ڈالر آمدنی کے باوجود صرف 784 ملین ڈالر فری کیش فلو رپورٹ کیا جبکہ اس کے اے آئی اور ورچوئل ریئلٹی ڈویژن ریئلٹی لیبز کو سال کے پہلے چھ ماہ میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
سرمایہ کاروں کا مطالبہ: وعدے نہیں، نتائج دکھائیں
رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ اب صرف مستقبل کے وعدوں سے مطمئن نہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اے آئی پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری سے حقیقی منافع کب حاصل ہوگا۔
میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ کمپنی خود مختار انداز میں کام کرنے والے اے آئی ایجنٹس اور دیگر کمپنیوں کے لیے اے آئی سروسز تیار کر رہی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ منصوبے کب آمدنی دینا شروع کریں گے۔
اس اعلان کے بعد میٹا کے حصص ایک سال کی دوسری کم ترین سطح تک گر گئے حالانکہ کمپنی نے رواں سال اے آئی پر 140 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
دوسری جانب مائیکروسافٹ کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ کمپنی نے مضبوط مالی نتائج کے ساتھ یہ بھی دکھایا کہ اس کی بنیادی اے آئی سروسز کو صارفین اور کاروباری اداروں کی جانب سے تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
تجزیہ کاروں کے مطابق مائیکروسافٹ ان چند کمپنیوں میں شامل ہے جہاں اے آئی پر ہونے والی سرمایہ کاری کے عملی فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایمیزون بھی پیچھے نہیں
ایمیزون نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال اے آئی پر تقریباً 220 ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ اگرچہ کمپنی کا فری کیش فلو دباؤ کا شکار رہا تاہم اس کے دیگر کاروباروں کی مضبوط کارکردگی کے باعث کمپنی کے حصص دو ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے۔
اے آئی کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اے آئی اب تک انٹرنیٹ یا بجلی جیسا انقلاب ثابت نہیں ہوئی، تاہم نئی ٹیکنالوجی کے لیے صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
گوگل کے مطابق اس کے جیمنائی چیٹ بوٹ کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 95 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔
ادھر ایپل کا کہنا ہے کہ رواں سال آئی فون، آئی پیڈ اور میک کمپیوٹرز کی فروخت کمپنی کی توقعات سے بہتر رہی یہاں تک کہ مائیکرو چپس کی محدود دستیابی کے باعث کمپنی تمام طلب پوری کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
سری کا نیا اے آئی ورژن متعارف کرانے کی تیاری
ایپل نے بتایا کہ وہ جلد ہی اپنے وائس اسسٹنٹ سری کا جدید اے آئی ورژن متعارف کرانے والا ہے جس میں گوگل کے جیمنائی ماڈل کی مدد بھی شامل ہوگی۔
ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو ٹِم کک نے کہا کہ صارفین کی ابتدائی آرا انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور کمپنی کو توقع ہے کہ بہت سے صارفین نئے سری اے آئی کے جدید فیچرز استعمال کرنے کے لیے اضافی فیس ادا کرنے پر بھی آمادہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: گوگل کا بڑا انکشاف، ہیکرز کا اے آئی کے ذریعے ’خفیہ ترین‘ سائبر حملے کا منصوبہ ناکام
انہوں نے کہا کہ ہم سری اے آئی کے حوالے سے غیر معمولی طور پر پُرجوش ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ بڑی تعداد میں صارفین اسے استعمال کرنا چاہیں گے۔














