بلوچستان میں بڑھتی بے روزگاری کے باعث جہاں ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ملازمتوں کے منتظر ہیں وہیں ایک نوجوان نے حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے خود روزگار اختیار کر کے دوسروں کے لیے مثال قائم کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مارشل آرٹ میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی کوئٹہ کی باہمت خواتین
فارمیسی میں گریجویشن مکمل کرنے والے سید مصور نے ملازمت کا انتظار کرنے کے بجائے کوئٹہ میں برگر اور لوڈڈ فرائز کا فوڈ کارٹ قائم کر لیا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف اپنا روزگار کمانا چاہتے ہیں بلکہ مستقبل میں دیگر نوجوانوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ان کا خواب ہے۔
سید مصور نے بتایا کہ انہوں نے چند ماہ قبل ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری مکمل کی تاہم فارماسسٹوں میں بڑھتی بے روزگاری کو دیکھتے ہوئے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے فوڈ کارٹ کو شروع ہوئے ایک ماہ ہوا ہے جہاں برگر، فرائز اور لوڈڈ فرائز فروخت کیے جا رہے ہیں جبکہ جلد مزید اشیا بھی متعارف کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار حاصل کرنا آسان نہیں رہا اسی لیے وہ دوسروں کی طرح صرف ملازمت کا انتظار کرنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کر کے ایک مثبت مثال بننا چاہتے تھے۔
مزید پڑھیے: پست قامت لیکن حوصلے بڑے، کوئٹہ کی باہمت بلانستہ کی موٹیویشنل کہانی
سید مصور کے مطابق فارمیسی کی تعلیم نے انہیں صفائی، معیار اور حفظان صحت کی اہمیت سکھائی اور اسی سوچ کو انہوں نے اپنے کاروبار کی بنیاد بنایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح صارفین کو صاف ستھرا اور معیاری کھانا فراہم کرنا ہے تاکہ ان کا فوڈ کارٹ مستقبل میں ایک مضبوط برانڈ بن سکے۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے فارمیسی میں داخلہ لیا تھا تو ان کا خواب بطور فارماسسٹ خدمات انجام دینا تھا لیکن موجودہ حالات میں فارماسسٹوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے خود روزگار کا راستہ اختیار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے بلوچستان میں صرف دو جامعات فارمیسی کی تعلیم دیتی تھیں لیکن اب مختلف اداروں میں یہ شعبہ شروع ہونے کے باعث ہر سال سینکڑوں طلبہ فارمیسی سے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں جبکہ ملازمتوں کے مواقع اس تناسب سے پیدا نہیں ہو رہے، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ کی باہمت خاتون کی کہانی
اس سوال پر کہ اگر انہیں اچھی سرکاری یا نجی ملازمت مل جائے تو کیا وہ اپنا کاروبار جاری رکھیں گے سید مصور نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح اپنے کاروبار کو آگے بڑھانا ہے تاہم اگر اچھی ملازمت ملی تو وہ ملازمت کے ساتھ اپنے کاروبار کو بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن اگر حکومت تمام نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم ایسے نوجوانوں کی مالی معاونت کرے جو اپنا کاروبار شروع کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبوں کو وسعت دے سکیں اور مزید لوگوں کو روزگار فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھیے: بولتے پاؤں: کوئٹہ کے پینٹر علی گوہر، ہاتھوں سے معذور لیکن فنکاری سے بھرپور
سید مصور کے مطابق ان کے فوڈ کارٹ کے قیام پر تقریباً ڈھائی سے 3 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کو ابھی صرف ایک ماہ ہوا ہے اس لیے منافع کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم انہیں یقین ہے کہ محنت، بہتر انتظام اور معیاری سروس کے ذریعے وہ جلد کامیابی حاصل کر لیں گے۔













