وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال ایک میڈیا بریفنگ میں مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچنے اور بعد ازاں ایک خاتون صحافی سے ہونے والے مکالمے کے باعث تنقید کی زد میں آ گئے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافی برادری اور صارفین کی جانب سے وقت کی پابندی اور میڈیا کے ساتھ حکومتی شخصیات کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو کے مطابق وزیرِ صحت نے میڈیا بریفنگ کے لیے صبح ساڑھے 10 بجے کا وقت دیا تھا تاہم وہ تقریباً 11 بجے پہنچے۔ اس دوران شدید گرمی میں انتظار کرنے والے صحافیوں میں بے چینی پائی گئی۔
وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے وقت ساڑھے دس بجے کا دیا ۔ خود 11 بجے آئے ۔ خاتون صحافی نے احتجاج کیا کہ گرمی ہے ہم ساڑھے دس بجے سے بیٹھے ہوئے ہیں تو برہم ہوگئے کہ جانا ہے تو آپ چلی جائیں ۔ ساڑھے دس بجے کا مطلب 11 بجے ہوتا ہے ۔
وفاقی وزراء کا آن کیمرہ میڈیا کیساتھ یہ رویہ ہے تو پھر… pic.twitter.com/kl2g3ncAJw
— Tanveer Awan (@hTanveerAwan) August 3, 2026
وزیرِ صحت کی آمد پر ایک خاتون صحافی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندگان ساڑھے 10 بجے سے شدید گرمی میں ان کے منتظر ہیں۔ اس پر مصطفیٰ کمال نے جواب دیا ’گرمی میں نے کی ہے؟‘ بعد ازاں انہوں نے کہا ’ساڑھے 10 بجے کا مطلب 11 بجے ہوتا ہے‘، اور مزید کہا ’اگر جانا ہے تو آپ چلی جائیں‘۔
یہ مکالمہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا جس کے بعد صحافیوں، سوشل میڈیا صارفین اور مختلف مبصرین نے وزیرِ صحت کے رویے پر تنقید کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات سے نہ صرف وقت کی پابندی بلکہ میڈیا کے ساتھ پیشہ ورانہ، شائستہ اور ذمہ دارانہ رویے کی بھی توقع کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اف ہم تو ڈر گئے‘، بلاول کی جانب سے حکومت کو الٹی میٹم دینے پر عظمیٰ بخاری کا طنز
کئی صارفین نے کہا کہ اگر وفاقی وزراء کیمروں کے سامنے میڈیا کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ماتحت سرکاری افسران عوام کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہوں گے۔ پھر یہی سوال اٹھتا ہے کہ آخر نظام کیوں ناکام ہوتا ہے؟ جس ملک میں وفاقی وزیر خود وقت کی پابندی کو سنجیدگی سے نہ لے، وہاں نظام فیل ہی ہو گا۔














