سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابقہ اہلیہ کی غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے کیس میں نامزد ملزم صفدر عرفان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔
کیس کی سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ کے بینچ کے ارکان جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد نے ملزم کے اقدام پر شدید برہمگی کا اظہار کیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا اس ایف آئی آر کو لوگوں میں پڑھنے کی ہمت ہے؟ ملزم نے مقدس رشتے کو پامال کیا ہے اور عورت کی شائستگی تو اس کا پردہ ہوتی ہے۔
ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا موکل گزشتہ چھ ماہ سے جیل میں ہے اور خاتون اس وقت دبئی میں مقیم ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے خاتون کو ملک میں رہنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا، اس کو تو ساری زندگی اندر رہنا چاہیے، کون سا اچھا کام کیا ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ ملزم کے قبضے سے موبائل فون بھی برآمد ہو چکا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے اپنی ہی اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے انتہائی غیر اخلاقی کام کیا، بیوی کے طلاق لینے پر ملزم نے یہ سب کچھ کیا۔
عدالت کی جانب سے ضمانت دینے سے واضح انکار اور سخت رویے کے بعد، ملزم کے وکیل نے درخواستِ ضمانت مسترد ہونے پر کیس واپس لے لیا۔













