پاکستان اور ایران نے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو تیز کرنے اور اسے جلد از جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
یہ اتفاق رائے منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے 10ویں اجلاس میں ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے کی۔
اجلاس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بارڈر پر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر پاکستان ایران کا اتفاق
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ایران آزاد تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔
در پاسخ به ایرنا؛
🎥وزیر بازرگانی پاکستان: دستیابی به هدف ۱۰ میلیارد دلاری در تجارت با ایران تسریع میشودhttps://t.co/IFk7A3lDaT pic.twitter.com/WCy4XVl9RG— خبرگزاری جمهوری اسلامی – ایرنا (@IRNA_1313) August 4, 2026
انہوں نے کہا کہ سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور الیکٹرونک ڈیٹا انٹرچینج نظام کے نفاذ سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
جام کمال خان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ تجارت کے لیے تیار ہے، اب حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروبار کے لیے سازگار، شفاف اور قابل اعتماد ماحول فراہم کریں۔
مزید پڑھیں: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، قومی اتحاد کی ضرورت ہے، اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ
انہوں نے کہا کہ مشترکہ تجارتی کمیٹی کا 10واں اجلاس اقتصادی تعاون کے لیے ایک عملی روڈ میپ فراہم کرے گا۔
ایرانی وزیر ڈاکٹر محمد اتابک نے پاکستان کو ایران کا طویل المدتی اسٹریٹجک تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان۔ایران آزاد تجارتی معاہدہ جلد پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان ایران امریکا مذاکرات میں ثالثی کردار مزید فعال کرے، چین
ان کے مطابق بجلی کی تجارت اور علاقائی رابطہ دونوں ممالک کے لیے نئی اقتصادی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
اجلاس میں پاکستان اور ایران نے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے، علاقائی روابط بڑھانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، عباس عراقچی کو دورہ پاکستان کی دعوت
واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اب تک 9 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ 9واں اجلاس 6 اور 7 نومبر 2021 کو تہران میں ہوا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان یکم ستمبر 2006 سے ترجیحی تجارتی معاہدہ بھی نافذ العمل ہے، جس کے تحت پاکستان نے ایران کو 338 ٹیرف لائنز پر جبکہ ایران نے پاکستان کو 309 ٹیرف لائنز پر ٹیرف رعایتیں دی ہیں۔
تاہم ایران کے نسبتاً سخت ٹیرف نظام کے باعث پاکستانی برآمدات پر عائد درآمدی ڈیوٹیز اب بھی ایران کی پاکستان کو برآمدات کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔














