چین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں مزید تیز کرے، جبکہ امریکی صدر چین کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ ایرانی تنازع پر چینی قیادت سے بھی بات چیت کریں گے۔
مزید پڑھیں:کیا 28ویں آئینی ترمیم ایران امریکا مذاکرات کے باعث پس منظر میں چلی گئی؟
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور ایران امریکا تنازع پر تبادلہ خیال کیا۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وانگ ای نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری گزرگاہ کھلوانے کے لیے بھی تعمیری کردار ادا کرے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بیجنگ پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اس عمل میں اپنا کردار بھی ادا کرے گا۔
حالیہ بحران کے دوران پاکستان ایک اہم ثالثی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس میں بعد ازاں توسیع بھی کی گئی۔
اسی سلسلے میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات کا ایک دور بھی منعقد ہوا تھا، تاہم دوسرا دور تاحال نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے، تاہم پاکستان کے ذریعے رابطے اور پسِ پردہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
یاد رہے کہ ایران جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس کے باعث عالمی تیل منڈی شدید متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا روڈ میپ کیا ہو سکتا ہے؟
ادھر صدر ٹرمپ نے چین روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چینی صدر سے ایران کے معاملے پر تفصیلی بات چیت کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کے حل کے لیے انہیں چینی مدد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
صدر ٹرمپ کے بقول، ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے معاملے پر کسی کی مدد درکار ہے۔ ہم یہ تنازع ایک نہ ایک طریقے سے حل کر لیں گے، چاہے وہ پرامن راستہ ہو یا کوئی اور طریقہ۔‘














