5 اگست 2019 کو بھارت نےآئینی دہشتگردی کی، پاکستان کے علاوہ کشمیریوں کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں، الطاف حسین وانی

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف حریت رہنما اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنا دراصل آئینی دہشت گردی تھی، جس کا مقصد کشمیریوں کی شناخت، زمین اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا تھا، بھارت کچھ بھی کرلے کشمیریوں کا جذبہ آزادی سرد نہیں کر سکتا، اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں۔

’یوم استحصال کشمیر‘ کے موقع پر ’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ 7 برسوں میں مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اس کے برعکس آزاد کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ادارہ جاتی، تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی نمایاں ترقی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرگئی، بھارتی حکومت کا اعتراف

انہوں نے کہاکہ 1947 میں آزاد کشمیر بنیادی سہولیات سے قریباً محروم تھا، پورے خطے میں صرف ایک ہائی اسکول، چند مڈل اسکولز اور محدود سڑکیں موجود تھیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کالجز، تعلیمی ادارے، اسپتال اور سیاحتی ڈھانچہ پہلے سے قائم تھا۔ تاہم گزشتہ 7 دہائیوں میں آزاد کشمیر میں متعدد سرکاری و نجی جامعات، میڈیکل کالجز، ضلعی اسپتال، سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے، جبکہ مقبوضہ کشمیر مسلسل اختیارات سے محروم ہوتا گیا۔

’آزاد کشمیر میں اختیارات بڑھے، مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کمی آئی‘

الطاف حسین وانی نے کہاکہ آزاد کشمیر میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادارے مضبوط ہوئے، صدر، وزیراعظم، سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور دیگر آئینی اداروں کو تقویت ملی، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔

انہوں نے کہاکہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں صدر اور وزیراعظم کے عہدے موجود تھے، مگر اب ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اسے یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا ہے، منتخب حکومت کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں اور اصل فیصلے نئی دہلی کرتی ہے۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر اختیارات کی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

’5 اگست 2019 کے اقدام کا مقصد آبادی کا تناسب بدلنا تھا‘

الطاف حسین وانی نے کہاکہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کے زمین اور شناخت سے متعلق تمام قانونی تحفظات ختم کر دیے۔

انہوں نے کہاکہ اب تک قریباً 42 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ وہ کشمیر میں زمین خرید سکیں، سرکاری ملازمتیں حاصل کر سکیں اور جائیداد کی ملکیت حاصل کر سکیں، تاکہ خطے کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ امرناتھ یاترا کے دائرہ کار میں بھی غیر معمولی توسیع کی گئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ماحولیات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ کشمیری ثقافت بھی دباؤ کا شکار ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ کشمیر کی 122 سالہ سرکاری زبان اردو کی حیثیت بھی متاثر کی گئی اور زبان و رسم الخط کے حوالے سے تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں۔

‘مقبوضہ کشمیر آج بھی ایک کھلی جیل ہے’

حریت رہنما نے کہاکہ 5 اگست 2019 کے بعد پوری وادی میں اضافی فوج تعینات کی گئی، مواصلاتی نظام معطل کردیا گیا، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ بند کر دیے گئے، سیاسی قیادت، نوجوانوں اور خواتین کو گرفتار کیا گیا اور بڑے پیمانے پر نظربندیاں کی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حالیہ ایک واقعے کے بعد پوری وادی میں کریک ڈاؤن کیا گیا اور ساڑھے 3 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، جنہیں تحریک آزادی سے وابستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

’خواتین پر مظالم کے الزامات‘

الطاف حسین وانی نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ 1990 کی دہائی سے ایسے متعدد واقعات سامنے آئے۔

انہوں نے کنن پوشپورہ، شوپیاں اور آصفہ کیس سمیت مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ متعدد مقدمات میں عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف رپورٹس میں بھی ان واقعات کا ذکر کیا گیا، تاہم متاثرین کو انصاف نہیں ملا۔

’پاکستان کشمیریوں کا سب سے بڑا سفارتی اور اخلاقی معاون ہے‘

ایک سوال کے جواب میں الطاف حسین وانی نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر مسلسل حمایت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان سفری سہولیات اور سفارتی معاونت فراہم نہ کرے تو وہ دنیا بھر میں جا کر کشمیریوں کا مقدمہ پیش نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف کشمیری مہاجرین کو پناہ دی بلکہ انہیں معاشرے کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کیے۔

’مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہے‘

الطاف حسین وانی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے میں ہے۔

انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔ ان کے مطابق طاقت اور فوجی اقدامات کے ذریعے عوام کی خواہشات کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔

’مہاجرین کی نشستوں سے متعلق مطالبہ قانونی طور پر درست نہیں‘

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق سوال پر الطاف حسین وانی نے کہاکہ پاکستان میں آباد مہاجرین اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ انہیں حالات نے ہجرت پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہاکہ چونکہ مستقبل میں اگر استصواب رائے ہوتا ہے تو یہ بھی ریاست جموں و کشمیر کے شہری ہیں، اس لیے ان کا سیاسی حق برقرار رہنا چاہیے۔ البتہ نشستوں کے طریقہ کار پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن انہیں نمائندگی سے محروم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

’تحریک آزادی کشمیر کو دبایا نہیں جا سکتا‘

الطاف حسین وانی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کی استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ سخت پابندیوں، گرفتاریوں اور اظہارِ رائے پر قدغن کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری

انہوں نے کہاکہ بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی تحریک ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی عوام کے حوصلے پست کیے جا سکے ہیں، اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یومِ استحصالِ کشمیر: وزیراعلیٰ بلوچستان کا کشمیری عوام سے غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار

نجی ازبک ایئر لائن سینٹرم ایئر کا تاشقند، کراچی براہِ راست پروازوں کا اعلان

5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کے خلاف وزارتِ امور کشمیر اور وزارتِ خارجہ کی احتجاجی ریلی، کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار

اسحاق ڈار عمان پہنچ گئے، فلسطین کی صورتحال پر اہم وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے

پاکستان اور امریکا کا ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور بی ایل اے کیخلاف تعاون بڑھانے کا فیصلہ

ویڈیو

واشنگٹن کے چڑیا گھر میں باؤلی نے اپنی 5ویں سالگرہ کیسے منائی؟

تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان

اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے