افغانستان کی سابق قومی فوج کے کمانڈر اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ سمیع سادات نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رجیم کے دوران گزشتہ 3 ماہ میں کم از کم 184 سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں سے متعدد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا
سمیع سادات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق فوجیوں کے قتل کی دستاویزی شواہد جمع کیے گئے ہیں جبکہ کئی افراد کو ہلاک کرنے سے قبل مبینہ طور پر بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اور دیگر ممالک سے واپس بھیجے جانے والے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو افغانستان واپسی پر مزید سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے مبینہ طور پر نشانہ بننے کا خدشہ زیادہ ہے۔
ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ
سمیع سادات نے مطالبہ کیا کہ سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل، تشدد اور دیگر مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کا قانون کے مطابق احتساب کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت خوف اور تشدد کے ذریعے اپنے مستقبل کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔
انہوں نے اپنے بیان کے ساتھ سابق سیکیورٹی اہلکاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں اور طالبان کی حمایت کرنے والوں سے سوال کیا کہ اگر یہ متاثرین ان کے اپنے اہلخانہ ہوتے تو ان کا ردعمل کیا ہوتا۔
اقوام متحدہ بھی خدشات کا اظہار کر چکی ہے
اگرچہ اگست سنہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سابق افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی ہلاکتوں کے مکمل سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں تاہم اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں متعدد بار سابق سرکاری اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں، ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کی رپورٹس جاری کر چکی ہیں۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تازہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف 5 قتل، 20 من مانی گرفتاریاں اور حراست جبکہ تشدد یا ناروا سلوک کے 8 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
These are the faces of former Afghan National Defense and Security Forces personnel who were killed after the Taliban seized control of Afghanistan.
In the past three months alone, we have documented more than 184 former soldiers killed, many subjected to horrific torture. The… pic.twitter.com/hRzFVHBmMn
— Sami Sadat (@SayedSamiSadat) July 20, 2026
دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے کیونکہ متاثرہ خاندان انتقامی کارروائی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں جس کے باعث اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
طالبان کی تردید
طالبان رجیم ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کی گئی عام معافی کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مبینہ قتل، گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں جس سے ان کے تحفظ اور احتساب کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
سمیع سادات کا مسلح کارروائیوں کا اعلان
ادھر سابق افغان جنرل سمیع سادات نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
ویڈیو پیغام میں سابق افغان فوج کی وردی اور سابق جمہوریہ افغانستان کا پرچم تھامے انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف فوجی، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر جدوجہد جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ
انہوں نے اس مہم کو آزادی کی جنگ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ طالبان سے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور اب افغانستان کی آزادی کے لیے مختلف محاذوں پر مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔












