افغانستان کی سابق فوج کے سینیئر افسر اور سابق لیفٹیننٹ جنرل سید سمیع سعادت نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والے دہشتگرد گروہوں کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے جبکہ بھارت بھی طالبان کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے جو بعد ازاں کالعدم تنظیموں تک پہنچائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری
سابق افغان حکومت کے دور میں سنہ 2021 میں افغان فوج کے ڈپٹی چیف کے طور پر خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل سید سمیع سعادت نے یہ دعویٰ ایک ویڈیو بیان میں کیا جو سوشل میڈیا اور مختلف علاقائی میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہا ہے۔
سابق افغان جنرل نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے کہ پاکستان کے خلاف حملے کرنے والے ہر گروہ کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان ان گروہوں کو مختلف نوعیت کی مدد اور پشت پناہی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور انہیں بھارت سے مالی معاونت ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی رقوم بعد میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کو فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ پاکستان کے اندر حملے کر سکیں۔
سمیع افغانستان کی سابق فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے تھے اور سنہ 2021 میں مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خاتمے سے قبل افغان فوج کے ڈپٹی چیف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: بی بی سی پشتو افغان طالبان رجیم کا پروپیگنڈا آگے پھیلانے لگا، دہشتگردی کے معاملے پر خاموشی سوالیہ نشان
عوامی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق وہ اس وقت افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین ہیں، جو طالبان حکومت کی مخالفت کرنے والی ایک سیاسی تنظیم ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل سمیع کے یہ بیانات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ وہ افغانستان کی سابق فوج کے اعلیٰ عہدیدار رہ چکے ہیں۔ ان کے دعوے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے سرگرم ہیں اور انہیں بھارت کی معاونت بھی حاصل ہے جس کی بدولت وہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
پاکستانی حکام متعدد دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی بھی کرتے رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدہ ہیں۔ پاکستانی حکام بارہا افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
مزید پڑھیں: طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ
دفاعی و سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق سابق جنرل سامی سادات کے یہ بیانات جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال، سرحد پار دہشتگردی اور علاقائی استحکام سے متعلق بحث کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔













