طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کی سابق فوج کے سینیئر افسر اور سابق لیفٹیننٹ جنرل سید سمیع سعادت نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والے دہشتگرد گروہوں کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے جبکہ بھارت بھی طالبان کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے جو بعد ازاں کالعدم تنظیموں تک پہنچائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری

سابق افغان حکومت کے دور میں سنہ 2021 میں افغان فوج کے ڈپٹی چیف کے طور پر خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل سید سمیع سعادت نے یہ دعویٰ ایک ویڈیو بیان میں کیا جو سوشل میڈیا اور مختلف علاقائی میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہا ہے۔

سابق افغان جنرل نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے کہ پاکستان کے خلاف حملے کرنے والے ہر گروہ کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان ان گروہوں کو مختلف نوعیت کی مدد اور پشت پناہی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور انہیں بھارت سے مالی معاونت ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی رقوم بعد میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کو فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ پاکستان کے اندر حملے کر سکیں۔

سمیع افغانستان کی سابق فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے تھے اور سنہ 2021 میں مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خاتمے سے قبل افغان فوج کے ڈپٹی چیف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیے: بی بی سی پشتو افغان طالبان رجیم کا پروپیگنڈا آگے پھیلانے لگا، دہشتگردی کے معاملے پر خاموشی سوالیہ نشان

عوامی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق وہ اس وقت افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین ہیں، جو طالبان حکومت کی مخالفت کرنے والی ایک سیاسی تنظیم ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل سمیع کے یہ بیانات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ وہ افغانستان کی سابق فوج کے اعلیٰ عہدیدار رہ چکے ہیں۔ ان کے دعوے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے سرگرم ہیں اور انہیں بھارت کی معاونت بھی حاصل ہے جس کی بدولت وہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

پاکستانی حکام متعدد دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی بھی کرتے رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدہ ہیں۔ پاکستانی حکام بارہا افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

مزید پڑھیں: طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ

دفاعی و سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق سابق جنرل سامی سادات کے یہ بیانات جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال، سرحد پار دہشتگردی اور علاقائی استحکام سے متعلق بحث کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار