طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغان دہشتگرد فرنچائزز کا پھیلاؤ، عالمی خدشات میں اضافہ

منگل 26 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روسی سیکیورٹی ادارے ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس کے) وسطی ایشیائی ممالک اور روس میں موجود تارکینِ وطن کمیونٹیز سے دہشتگرد بھرتی کر رہی ہے جبکہ دہشتگرد نیٹ ورکس، مالی معاونت کے چینلز اور حملوں کی منصوبہ بندی کے ڈھانچے پورے یوریشیا میں مسلسل پھیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا

بورٹنیکوف کے مطابق یہ صورتحال اس بڑھتے ہوئے خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اب صرف ایک داخلی تنازعے کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ وہ دہشتگرد بھرتی، انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ اور بین الاقوامی دہشتگرد کارروائیوں کے لیے ایک ابھرتا ہوا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش خراسان کی بھرتی مہم کا دائرہ تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان سے بڑھ کر روس میں مقیم تارکینِ وطن تک پھیل جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ افغانستان تیزی سے سرحد پار دہشتگرد نیٹ ورکنگ، افرادی قوت کی تیاری اور انتہا پسند عناصر کی منظم نقل و حرکت کا علاقائی مرکز بن رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے مختلف ممالک میں دہشتگرد سیلز، خفیہ مالیاتی نیٹ ورکس اور حملوں کی منصوبہ بندی کے ڈھانچوں کی توسیع اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود جہادی ایکو سسٹم کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

روس، تاجکستان اور ازبکستان کے درمیان حالیہ انٹیلی جنس تعاون کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد حملوں کو ناکام بنایا گیا جن میں ماسکو کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بند کارروائیاں بھی شامل تھیں۔

روسی سیکیورٹی ادارے ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف۔

ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ افغانستان میں پنپنے والے خطرات اب یوریشیا میں حقیقی دہشتگردی کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس، بشمول اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم، ایس آئی جی اے آر اور علاقائی سیکیورٹی جائزوں کے مطابق افغانستان اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں اور تقریباً 20 سے 23 ہزار جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر وابستہ نیٹ ورکس شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ فضائی حملہ

تجزیاتی اندازوں کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 2,000 سے 3,000 داعش خراسان اور 5,000 سے 7,000 ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں جبکہ جاری بھرتی مہمات اور نظریاتی تربیتی ڈھانچے افغانستان کو دہشتگردی کی بحالی اور توسیع کے ایک اسٹریٹجک مرکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطرہ اب افغانستان کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے بتدریج انتہا پسندی کی برآمد، جہادی بھرتی اور دہشتگرد کارروائیوں کے لیے ایک فعال آپریشنل مرکز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی انٹیلیجنس کی بڑی کارروائی، داعش خراسان کا ترجمان گرفتار

عالمی مبصرین کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی بین الاقوامی وارننگز ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان داعش خراسان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے لیے ایک بڑے عالمی لانچ پیڈ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے ممکنہ امن معاہدہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اہم کابینہ اجلاس طلب کرلیا

نیویارک: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان اور کمبوڈیا کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، عالمی امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور قانون کی بالادستی ناگزیر قرار

مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق

ابراہام معاہدہ فلسطینی مسئلے اور مشرق وسطیٰ کے بڑے تنازعے کا حل کیوں نہیں بن سکتا؟

ویڈیو

یہ غلط فہمی ہے کہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، حافظ عبدالرحمان

عیدالاضحیٰ سیزن: مویشیوں کے چارے، سامان سجاوٹ کے عارضی اسٹالز، کم وقت میں بڑی کمائی کا ذریعہ

حج 2026 کے موقع پر میدان عرفات میں عازمین کے لیے شاندار انتظامات

کالم / تجزیہ

ہر راستہ بیجنگ کی جانب

کراچی میں ہونے والا فضائی حادثہ جس نے پاکستان کے ایوی ایشن نظام کو ہلا کر رکھ دیا

عیدالاضحیٰ: پہل اسلام آباد سے کی جائے؟