روسی سیکیورٹی ادارے ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس کے) وسطی ایشیائی ممالک اور روس میں موجود تارکینِ وطن کمیونٹیز سے دہشتگرد بھرتی کر رہی ہے جبکہ دہشتگرد نیٹ ورکس، مالی معاونت کے چینلز اور حملوں کی منصوبہ بندی کے ڈھانچے پورے یوریشیا میں مسلسل پھیل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا
بورٹنیکوف کے مطابق یہ صورتحال اس بڑھتے ہوئے خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اب صرف ایک داخلی تنازعے کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ وہ دہشتگرد بھرتی، انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ اور بین الاقوامی دہشتگرد کارروائیوں کے لیے ایک ابھرتا ہوا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش خراسان کی بھرتی مہم کا دائرہ تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان سے بڑھ کر روس میں مقیم تارکینِ وطن تک پھیل جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ افغانستان تیزی سے سرحد پار دہشتگرد نیٹ ورکنگ، افرادی قوت کی تیاری اور انتہا پسند عناصر کی منظم نقل و حرکت کا علاقائی مرکز بن رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے مختلف ممالک میں دہشتگرد سیلز، خفیہ مالیاتی نیٹ ورکس اور حملوں کی منصوبہ بندی کے ڈھانچوں کی توسیع اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود جہادی ایکو سسٹم کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
روس، تاجکستان اور ازبکستان کے درمیان حالیہ انٹیلی جنس تعاون کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد حملوں کو ناکام بنایا گیا جن میں ماسکو کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بند کارروائیاں بھی شامل تھیں۔

ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ افغانستان میں پنپنے والے خطرات اب یوریشیا میں حقیقی دہشتگردی کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس، بشمول اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم، ایس آئی جی اے آر اور علاقائی سیکیورٹی جائزوں کے مطابق افغانستان اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں اور تقریباً 20 سے 23 ہزار جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر وابستہ نیٹ ورکس شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ فضائی حملہ
تجزیاتی اندازوں کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 2,000 سے 3,000 داعش خراسان اور 5,000 سے 7,000 ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں جبکہ جاری بھرتی مہمات اور نظریاتی تربیتی ڈھانچے افغانستان کو دہشتگردی کی بحالی اور توسیع کے ایک اسٹریٹجک مرکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطرہ اب افغانستان کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے بتدریج انتہا پسندی کی برآمد، جہادی بھرتی اور دہشتگرد کارروائیوں کے لیے ایک فعال آپریشنل مرکز کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی انٹیلیجنس کی بڑی کارروائی، داعش خراسان کا ترجمان گرفتار
عالمی مبصرین کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی بین الاقوامی وارننگز ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان داعش خراسان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے لیے ایک بڑے عالمی لانچ پیڈ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔














