کیا صرف 5 منٹ میں چارج ہونے والی الیکٹرک گاڑیاں اب حقیقت بننے والی ہیں؟

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر کی آٹو موبائل اور بیٹری ساز کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی نئی نسل کی بیٹریاں تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جن کا مقصد چارجنگ کا وقت کم کرنا، ڈرائیونگ رینج بڑھانا، سرد موسم میں بہتر کارکردگی فراہم کرنا، لاگت میں کمی لانا اور بیٹریوں کو مزید محفوظ بنانا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی ای وی بیٹری ساز کمپنی CATL نے حال ہی میں بیجنگ میں منعقدہ ایک ٹیکنالوجی ایونٹ کے دوران اپنی تیسری نسل کی Shenxing بیٹری متعارف کرائی جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف ساڑھے 6 منٹ سے بھی کم وقت میں 10 فیصد سے 98 فیصد تک چارج ہو سکتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بیٹری 2026 سے گاڑیوں میں استعمال ہونا شروع ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا کا نیا عالمی ریکارڈ،10 ملین الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی پہلی کمپنی بن گئی

دوسری جانب چینی کمپنی BYD نے اپنی دوسری نسل کی Blade Battery پیش کی ہے، جو کمپنی کے مطابق صرف 9 منٹ میں 10 فیصد سے 97 فیصد تک چارج ہو سکتی ہے۔ نئی بیٹری میں توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، حفاظت، تیز چارجنگ اور کم لاگت کو بہتر بنانے کے لیے جدید Cell-to-Pack ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

رینج بڑھانے کی دوڑ میں بھی CATL پیش پیش ہے۔ کمپنی کی Qilin بیٹری جدید لیتھیم آئن ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کی توانائی کی گنجائش 255 واٹ آور فی کلوگرام تک بتائی جاتی ہے۔ اس بیٹری کی بدولت گاڑیاں ایک ہی سائز کی بیٹری کے ساتھ زیادہ فاصلہ طے کر سکتی ہیں یا کم حجم کی بیٹری سے بھی مطلوبہ رینج حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چھوٹی گاڑیاں سستی ہونے جارہی ہیں؟ عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

اسی دوران CATL اور BYD دونوں سوڈیم آئن بیٹریوں پر بھی کام کر رہی ہیں، جن کی بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار 2026 سے متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق سوڈیم آئن بیٹریاں نسبتاً کم قیمت، خام مال کی بہتر دستیابی اور سرد موسم میں بہتر کارکردگی کی وجہ سے کم لاگت والی الیکٹرک گاڑیوں، ہائبرڈ گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کے لیے موزوں ثابت ہو سکتی ہیں۔

ادھر ٹویوٹا، نسان، ہونڈا، سام سنگ ایس ڈی آئی اور کوانٹم اسکیپ سمیت کئی کمپنیاں سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جسے الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے زیادہ رینج، تیز چارجنگ، بہتر حفاظت اور ہلکی بیٹریاں تیار کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاہم بڑے پیمانے پر کم لاگت میں پیداوار اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

ٹویوٹا نے 2027 سے 2028 کے دوران سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں سے لیس نئی الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل کے بعض ماڈلز ایک مرتبہ چارج ہونے پر تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک سفر کر سکیں گے۔ نسان بھی 2028 میں اپنی آل سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں کسی ایک بیٹری ٹیکنالوجی کا غلبہ نہیں ہوگا بلکہ مختلف ضروریات کے مطابق مختلف اقسام کی بیٹریاں استعمال کی جائیں گی۔ کم قیمت گاڑیوں میں لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LFP) اور سوڈیم آئن بیٹریاں اہم کردار ادا کریں گی جبکہ زیادہ رینج اور اعلیٰ کارکردگی والی گاڑیوں میں نکل پر مبنی لیتھیم آئن اور سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟ نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں داخل

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی بیٹریاں چارجنگ کا وقت موجودہ 20 سے 30 منٹ کے بجائے 5 سے 10 منٹ تک لانے میں کامیاب ہو گئیں تو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں سب سے بڑی رکاوٹ، یعنی رینج اور چارجنگ سے متعلق خدشات، نمایاں حد تک کم ہو جائیں گے اور مقابلہ صرف بڑی بیٹری بنانے کے بجائے بہتر بیٹری ایکو سسٹم کی تیاری پر منتقل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp