وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں آٹو موبائل صنعت کے فروغ اور جدید سرمایہ کاری کے لیے تیار کی جانے والی ’نئی آٹو پالیسی‘ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، جسے آئی ایم ایف سے ٹیکس تجاویز پر حتمی مشاورت کے بعد اگست کے پہلے ہفتے میں متعارف کرائے جانے کا قوی امکان ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت اس پالیسی کو یکم جولائی سے ہی نافذ کرنے کی خواہشمند تھی، تاہم متعلقہ وزارتوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مزید تفصیلی مشاورت کے باعث اس میں ایک ماہ کی تاخیر ہوئی ہے۔
ٹیکس مراعات پر آئی ایم ایف کے تحفظات اور نئی حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے گھٹا کر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس پر آئی ایم ایف نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کی نئی آٹو پالیسی 2031: اب آسان قرض پر سستی گاڑیاں ملیں گی
عالمی مالیاتی فنڈ کے ان تحفظات کے بعد اب وزارت خزانہ، وزارت تجارت، ایف بی آر، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت قانون باہمی اشتراک سے ٹیکس تجاویز کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔
اس سلسلے میں 5 سالہ ٹیکس فریم ورک پر بھی آئی ایم ایف کے ساتھ حتمی مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ پالیسی کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔
جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور گاڑیوں کے لیے یو این سیکیورٹی معیار
نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی آٹو موبائل صنعت میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا اور مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہے۔
اس حوالے سے ایک اہم ترین تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ اب ملک میں تیار ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ ’62 حفاظتی معیارات کو اپنانا لازمی قرار دیا جائے گا، جس سے گاڑیوں کے معیار اور مسافروں کے تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ہائبرڈ گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور روایتی ایندھن پر انحصار کا خاتمہ
حکومت کی اس نئی پالیسی کا ایک اور کلیدی ہدف ملک کو ماحول دوست توانائی کی طرف منتقل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:پیسے لے لیے مگر گاڑی نہیں ملی، صارف کے نئی کار خریدنے کے خواب چکنا چور
پالیسی کے تحت ہائبرڈ اور ’پلگ اِن ہائبرڈ‘ گاڑیوں کے استعمال سمیت ان کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی، پیٹرول اور ڈیزل جیسے روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر انحصار کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک جامع اور طویل العبادی حکمت عملی بھی اس نئی آٹو پالیسی کا لازمی حصہ ہو گی۔














