گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟ نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں داخل

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں آٹو موبائل صنعت کے فروغ اور جدید سرمایہ کاری کے لیے تیار کی جانے والی ’نئی آٹو پالیسی‘ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، جسے آئی ایم ایف سے ٹیکس تجاویز پر حتمی مشاورت کے بعد اگست کے پہلے ہفتے میں متعارف کرائے جانے کا قوی امکان ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت اس پالیسی کو یکم جولائی سے ہی نافذ کرنے کی خواہشمند تھی، تاہم متعلقہ وزارتوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مزید تفصیلی مشاورت کے باعث اس میں ایک ماہ کی تاخیر ہوئی ہے۔

ٹیکس مراعات پر آئی ایم ایف کے تحفظات اور نئی حکمت عملی

رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے گھٹا کر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس پر آئی ایم ایف نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کی نئی آٹو پالیسی 2031: اب آسان قرض پر سستی گاڑیاں ملیں گی

عالمی مالیاتی فنڈ کے ان تحفظات کے بعد اب وزارت خزانہ، وزارت تجارت، ایف بی آر، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت قانون باہمی اشتراک سے ٹیکس تجاویز کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔

اس سلسلے میں 5 سالہ ٹیکس فریم ورک پر بھی آئی ایم ایف کے ساتھ حتمی مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ پالیسی کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔

جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور گاڑیوں کے لیے یو این سیکیورٹی معیار

نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی آٹو موبائل صنعت میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا اور مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہے۔

اس حوالے سے ایک اہم ترین تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ اب ملک میں تیار ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ ’62 حفاظتی معیارات کو اپنانا لازمی قرار دیا جائے گا، جس سے گاڑیوں کے معیار اور مسافروں کے تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔

ہائبرڈ گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور روایتی ایندھن پر انحصار کا خاتمہ

حکومت کی اس نئی پالیسی کا ایک اور کلیدی ہدف ملک کو ماحول دوست توانائی کی طرف منتقل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:پیسے لے لیے مگر گاڑی نہیں ملی، صارف کے نئی کار خریدنے کے خواب چکنا چور

پالیسی کے تحت ہائبرڈ اور ’پلگ اِن ہائبرڈ‘ گاڑیوں کے استعمال سمیت ان کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی، پیٹرول اور ڈیزل جیسے روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر انحصار کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک جامع اور طویل العبادی حکمت عملی بھی اس نئی آٹو پالیسی کا لازمی حصہ ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’چیٹ جی پی ٹی انسان نہیں‘: اوپن اے آئی کی نوعمر صارفین کے لیے نئی حکمت عملی

ٹی وی میزبان و اداکار ساحر لودھی کے خلاف خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج، الزام کیا ہے؟

شاہ رخ خان کی رہائش گاہ پر 2 بڑے سانپ نکل آئے، وکی دوبے کی طلبی

وفاقی حکومت کا عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کے سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

عمران خان کی اسپتال منتقلی: سینیٹ میں وزیر برائے پارلیمانی امور کی عملدرآمد کی یقین دہانی، پی ٹی آئی اراکین کا خیرمقدم

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد