کیا چھوٹی گاڑیاں سستی ہونے جارہی ہیں؟ عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں انٹری لیول اور چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی امید ایک بار پھر حکومت کی ٹیکس پالیسی اور نئی آٹو پالیسی سے جڑ گئی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت 800 سی سی تک کی لوکل طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کی تجویز پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟ نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں داخل

اگر یہ تجویز منظور ہوگئی تو سوزوکی آلٹو جیسی چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریلیف کا مکمل فائدہ صارفین تک پہنچنا مشکل ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے تحت 800 سی سی گاڑیوں پر موجودہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کو کم کر کے 12.5 فیصد لانے کی تجویز ہے۔

یاد رہے کہ یہ پالیسی اگست 2026 تک حتمی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹی گاڑیوں کو عام صارف کی پہنچ میں لانا، مقامی صنعت کو فروغ دینا اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

آئی ایم ایف کا حکومت پر دباؤ ہے، مشہود خان

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے آٹو انڈسٹری کے تجزیہ کار مشہود خان نے کہاکہ اگر 800 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس سنگل ڈیجٹ میں لایا جاتا ہے تو قیمتوں میں واضح کمی آ سکتی ہے، جس کا براہ راست فائدہ خریداروں کو ملے گا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ یہ معاملہ آئی ایم ایف پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف حکومت پر ٹیکس آمدن بڑھانے کا دباؤ ڈال رہا ہے، اس لیے ٹیکس رعایتوں پر بحث جاری ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجہ صرف سیلز ٹیکس نہیں، فاروق پٹیل

دوسری جانب آٹو سیکٹر کے ماہر فاروق پٹیل کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ صرف سیلز ٹیکس نہیں بلکہ آٹو انڈسٹری کا مجموعی پیداواری نظام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درآمدی پرزوں پر انحصار، اعلیٰ پیداواری لاگت، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور دیگر ٹیکسز (جیسے کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز) چھوٹی گاڑیوں کو بھی مہنگی بنا رہے ہیں۔ صرف ٹیکس کم کرنا عارضی ریلیف دے سکتا ہے، مستقل حل کے لیے مقامی پرزہ جات کی تیاری بڑھانا اور درآمدی انحصار کم کرنا ضروری ہے۔

آٹو سیکٹر کو متحرک کرنے کے لیے وسیع اصلاحات درکار ہیں، رانا ممتاز

آٹو ایکسپرٹ رانا ممتاز نے کہاکہ سیلز ٹیکس براہ راست صارفین سے وصول کیا جاتا ہے، اس لیے ٹیکس میں کمی کا فائدہ اصولاً قیمتوں میں کمی کی شکل میں خریداروں تک پہنچنا چاہیے۔ البتہ گاڑیوں کی قیمتوں کا تعین کئی عوامل سے ہوتا ہے جن میں پیداواری لاگت، ڈیوٹیز، روپے کی قدر اور کمپنیوں کے منافع کے مارجن شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیکس میں نمایاں کمی ہوتی ہے تو کمپنیاں قیمتیں ایڈجسٹ کر سکتی ہیں، لیکن آٹو سیکٹر کو واقعی متحرک کرنے کے لیے وسیع اصلاحات درکار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پہلے ہی کچھ ٹیکس رعایتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر نئی انرجی گاڑیوں (EVs) اور ہائبرڈز پر کم ٹیکس ریٹس کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے کا موقف سخت رہا ہے۔ حکومت اب ان تجاویز پر آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے احتیاط برت رہی ہے۔

ماہرین کا اتفاق ہے کہ اگر سیلز ٹیکس دوبارہ بڑھایا گیا یا رعایت نہ ملی تو چھوٹی گاڑیوں کی طلب مزید متاثر ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور کم خریداری طاقت کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔

آٹو انڈسٹری کے ماہر رانا ممتاز کا کہنا ہے کہ چھوٹی گاڑیوں کو سستا بنانے کے لیے صرف وقتی ٹیکس ریلیف کافی نہیں۔ حکومت کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں۔

مقامی سطح پر آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ بڑھانا

درآمدی انحصار کم کرنا

انٹرنیشنل سیفٹی سٹینڈرڈز اپنانا

الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو پروموشن دینا

نئی آٹو پالیسی میں ان تمام پہلوؤں کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں بتدریج بہتری، کون سی گاڑیاں سستی ہوئیں؟

صارفین اب اگست میں متوقع حتمی پالیسی کا انتظار کررہے ہیں۔ اگر تجویز منظور ہوئی تو 800 اور 850 سی سی والی گاڑیوں کی قیمتیں لاکھوں روپے تک کم ہو سکتی ہیں، جو متوسط طبقے کے لیے بڑا ریلیف ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی

19 سالہ چینی طالب علم نے 28 کروڑ روپے کی جائیداد بچپن کے دوست کے نام کر دی

وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال

ویڈیو

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ