پنجاب کا فلاحی نظام، دیہات کے مکینوں کی دہلیز تک امید کا سفر

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کا فلاحی نظام خاموشی سے صوبے بھر میں زندگیوں میں مثبت تبدیلی لارہا ہے۔ بے روزگار افراد کو کاروبار شروع کرنے کے لیے مالی معاونت مل رہی ہے، طلبہ کو روزانہ کے سفری مسائل سے نجات مل رہی ہے، جبکہ دیہی خواتین مویشی پال کر خود کفالت کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

 پنجاب کے مختلف فلاحی پروگرامز نے شہری اور دیہی علاقوں میں عوامی سہولتوں کی فراہمی کا دائرہ وسیع کردیا ہے، جس کے تحت معاشی، سماجی اور تعلیمی شعبوں میں مختلف اقدامات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 305 ارب کا پنجاب ڈویلپمنٹ پلان، 52 شہروں میں ترقیاتی کام تیز

اس معاشی بہتری کے سفر میں وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار فنانس اسکیم اہم کردار ادا کررہی ہے، جس کے ذریعے نئے اور موجودہ کاروباری افراد کو آسان شرائط پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی کاروبار کو فروغ مل رہا ہے بلکہ کم آمدن والے طبقات کو باقاعدہ قرضہ جاتی نظام تک رسائی بھی حاصل ہورہی ہے۔

مریم کی دستک پروگرام کے تحت سرکاری خدمات شہریوں کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں، جس سے بالخصوص بزرگ افراد، معذور شہریوں اور دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے نجات مل رہی ہے۔

رہائشی سہولتوں کے شعبے میں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے ذریعے خاندانوں کو اپنے گھر کی تعمیر میں مدد دی جارہی ہے، جبکہ اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام کے تحت خستہ حال گھروں کی مرمت اور دوبارہ تعمیر کے لیے قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام کے تحت جدید تکنیکی مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے انہیں عالمی ڈیجیٹل معیشت میں روزگار اور فری لانسنگ کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ماحول کے تحفظ کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام کے ذریعے ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بے روزگار افراد کو سرکاری زمین 10 سال کے لیے لیز پر دینے کا اعلان

پنجاب دھی رانی پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی بیٹیوں کی اجتماعی شادیاں جاری ہیں، جبکہ اب اس پروگرام کا دائرہ قیدیوں کی بیٹیوں تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یہ فیصلہ ان قیدیوں کی درخواستوں کے بعد کیا گیا جو اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے لیے معاونت چاہتے تھے۔

صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود و بیت المال پنجاب سہیل شوکت بٹ نے پروگرام کی توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قیدیوں کی بیٹیوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کے لیے متعلقہ حکام کو قیدیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب دیہی خواتین کو مویشیوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے پروگرام کے تحت زرعی گھرانوں کی خواتین کو مویشی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر خود مختار بن سکیں۔ سینئر ویٹرنری افسر ڈاکٹر جمشید اختر کے مطابق بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو بھی اس پروگرام کے ذریعے جانور فراہم کیے جارہے ہیں۔

وزیراعلیٰ فری سولر پینل اسکیم بجلی کے بلوں کے دباؤ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، جبکہ طلبہ کے لیے مفت بائیکس اسکیم غریب گھرانوں کے طلبہ کے سفری اخراجات کم کرنے میں معاون بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2025 میں پنجاب حکومت کے منصوبے اور درپیش تنازعات

دیہی علاقوں میں آن لائن سہولت مراکز ان پروگرامز سے متعلق آگاہی اور درخواستوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آن لائن سہولت مرکز چلانے والے محمد تنویر کے مطابق عوام میں شعور بڑھنے کے بعد بڑی تعداد میں دیہی شہری مختلف اسکیموں کے لیے درخواستیں جمع کرانے آرہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی