افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں اور وہیں سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اس لیے طالبان حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، القاعدہ سے وابستہ گروہوں اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دہشتگرد گروہ افغانستان سے بھرتی، تربیت، منصوبہ بندی اور پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ انہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے مالی اور دیگر معاونت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ہفتے سوات میں ٹی ٹی پی کے خودکش حملے میں 16 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کو دھچکا پہنچا ہے، تاہم افغانستان میں اس تنظیم کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک سرحد پار خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، سرحدی نظم و نسق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنا ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو کرنسیوں کو بھرتی، فنڈنگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس کا مشترکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کی جانب سے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، جبکہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں اور معاونین کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:’معرکۂ حق‘ پاکستان کے لیے قومی طاقت اور اسٹریٹجک وضاحت کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا، عاصم افتخار

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی ہے۔ انہوں نے بھارتی اقدامات کو ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر سمیت ہر جگہ ریاستی دہشتگردی کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا ہوگی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر جامع، مربوط اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور پاکستان اس عالمی کوشش میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آئندہ 6 ماہ پاکستان میں ہاکی کے میدان آباد رہیں گے، متعدد بین الاقوامی ایونٹس متوقع

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانس کے سیکریٹری جنرل برائے دفاع کی ملاقات، تعاون کو وسعت دینے کا عزم

حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، طاہر اشرفی کی زیرصدارت اجلاس میں علما و مشائخ کا متفقہ فتویٰ

سونا چاندی سستے ہوگئے، بھاؤ کیا رہا؟

پاکستانی روپیہ قدم بہ قدم ترقی کی جانب گامزن، ڈالر اور بٹ کوائن کتنے کے؟

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے