پاکستان کے مستقل نمائندے برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ’معرکۂ حق‘ پاکستان کے لیے قومی طاقت اور اسٹریٹجک وضاحت کا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
انہوں نے کہا کہ اس موقع نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی توثیق ہوئی۔ ان کے مطابق یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جارحیت کو کسی بھی صورت نئے معمول کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی غلط بیانی کے ذریعے جبر یا تنازع کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، لیکن امن کی بنیاد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی یا یکطرفہ اقدامات پر نہیں رکھی جا سکتی۔
انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کے لیے تنازعات کا پرامن حل ضروری ہے، جس میں جموں و کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے، اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:افغان سرزمین سے دہشتگردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ، عاصم افتخار
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان آئندہ بھی مکالمے، سفارت کاری، تعاون اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیتا رہے گا، اور اس کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصول ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مؤقف جولائی 2025 میں پاکستان کی قیادت میں منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قرارداد میں بھی ظاہر کیا گیا تھا، جس میں تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔














