بھارتی پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سہارا لیا گیا، جبکہ طالبات کے گھروں پر غنڈے بھیج کر انہیں معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق راہول گاندھی نے نئی دہلی کے جنتر منتر میں مختلف بھارتی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے آئین، تعلیمی نظام اور ملک کے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے گینگ ریپ کرنے والوں کے محافظ کو وزیر تعلیم بنادیا، راہل گاندھی کی مودی سرکار پر کڑی تنقید
انہوں نے کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا، لیکن اس کے باوجود طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب بھی مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
راہول گاندھی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اس لیے انہیں کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے پولیس کارروائی کا ذمہ دار بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کارروائی ان کے علم کے بغیر ہوئی تو وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے، اور اگر ان کے حکم پر کی گئی تو وہ براہِ راست اس کے ذمہ دار ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ دونوں صورتوں میں ذمہ داری امت شاہ پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ورنہ تمھارے ماں باپ کو دیکھ لیں گے‘، کاکروچ پارٹی کے بانی کو سنگین دھمکیاں
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں میں اس واقعے پر میڈیا کا سامنا کرنے اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے کا حوصلہ نہیں ہے۔
راہول گاندھی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے خلاف مبینہ تشدد اور ہراسانی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔












