الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قائد حزب اختلاف کے اثاثہ جات سے متعلق کیس زیر سماعت ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت جاری کردی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 اگست کو روزنامہ ڈان سمیت چند اخبارات میں شائع ہونے والی خبر بعنوان ’الیکشن کمیشن ارکان پارلیمنٹ کے اثاثہ جات کی تصدیق کے اختیارات چاہتا ہے‘ کے حوالے سے حقائق کی درستگی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی جماعتیں 29 اگست تک مالی گوشوارے جمع کرائیں، الیکشن کمیشن کی یاددہانی
بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس قائد حزب اختلاف کے اثاثہ جات کا کوئی کیس زیر سماعت نہیں ہے۔ خبر میں الیکشن رولز 2017 کے رول 137 میں مجوزہ ترمیم کو کمیشن کے روبرو زیر سماعت سیاسی جماعت سے متعلق کارروائی سے جوڑا گیا، جو حقائق اور قانون دونوں اعتبار سے غلط اور بے بنیاد ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق زیر سماعت کیس پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نئے آئین، انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد اور پارٹی اکاؤنٹس میں عطیہ دہندگان کی شناخت سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے گوشوارے جمع نہ کرانے پر 139 عوامی نمائندوں کی رکنیت معطل کردی
بیان میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی الیکشن ایکٹ کی دفعہ 137 کے تحت تمام ارکان کے اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کرتا ہے، اس قانون میں نہ کسی ترمیم کی سفارش کی جا رہی ہے اور نہ ہی کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ الیکشن رولز 2017 کے رول 137 میں مجوزہ ترمیم عمومی نوعیت کی ہے، جس کا مقصد صرف ابہام دور کرنا ہے، جبکہ یہ ترمیم تاحال منظور بھی نہیں ہوئی۔













