بھارت میں سرکاری بھرتیوں کے لیے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ تک پھیل گئی ہے، جہاں ہزاروں طلبہ نے سول سروس امتحان دوبارہ لینے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جھاڑکھنڈ میں احتجاج کا آغاز 25 جولائی کو ہوا، جو 4 روز بعد شدت اختیار کرگیا، جب مظاہرین نے ریاستی دارالحکومت رانچی کے ایک اسٹیڈیم میں غیر معینہ مدت کے دھرنے کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر طلبا کو دھمکانا بند نہیں کیا تو پہلے سے بڑا احتجاج کریں گے، کاکروچ جنتا پارٹی کا اعلان
طلبہ کا مطالبہ ہے کہ اپریل میں ہونے والا ابتدائی سول سروس امتحان منسوخ کرکے دوبارہ منعقد کیا جائے، جبکہ ریاست میں مختلف بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سے کرائی جائیں۔ مظاہرین نے ایسے معاملات کی سماعت کے لیے تیز رفتار عدالت کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ماہ امتحانی نتائج جاری ہونے کے بعد کچھ امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ آن لائن گردش کرنے والی جوابی شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کامیاب امیدواروں نے توقع سے کم سوالات کے جواب دیے، جس سے امتحانی عمل میں مبینہ تبدیلیوں کے خدشات پیدا ہوئے۔
Media? Silent. 🤐
CJP? Silent. 🤐
Opposition? Silent. 🤐Thousands of students in Jharkhand are protesting on the streets against JPSC/JSSC exam irregularities, yet NO mainstream coverage.
Why the radio silence? Because it’s an INDI alliance-ruled state? pic.twitter.com/YkZLMuQuWk
— Megh Updates 🚨™ (@MeghUpdates) August 1, 2026
جھاڑکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اور طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی جرائم تحقیقاتی شعبہ امتحانی عمل کی جانچ کر رہا ہے، جس میں اس ادارے کے انتخاب کے معاملے کی بھی تحقیقات شامل ہیں جس پر ماضی میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جھاڑکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین ایل کھیانگتے نے 22 جولائی کو استعفیٰ دے دیا تھا، جبکہ کمیشن نے بعد ازاں مرکزی امتحان بھی ملتوی کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سے کامیاب مذاکرات، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا
بھارت میں طلبہ تحریک کو اس وقت مزید توجہ ملی جب نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کی ایک بڑی تحریک کے بعد 25 جولائی کو بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا۔
نوجوانوں کی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے بھی جھاڑکھنڈ کے مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک غیر رجسٹرڈ سیاسی گروپ ہے، جس کی 36 روزہ مہم امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف طنزیہ احتجاج سے شروع ہوئی تھی اور بعد میں روزگار کے مواقع اور تعلیمی نظام سے متعلق نوجوانوں کی شکایات کی بڑی تحریک بن گئی۔
कुर्सी है, तुम्हारा ये जनाज़ा तो नहीं है,कुछ कर नहीं सकते तो उतर क्यों नहीं जाते?
राजधानी रांची की यह वीडियो आज शाम की है।
प्लगभग 20–25 हज़ार छात्र अपनी मांगों को लेकर मशाल जुलूस में सड़कों पर उतरे और झारखंड सरकार के खिलाफ विरोध प्रदर्शन किया।
युवाओं का यह जनसैलाब बता रहा है कि… pic.twitter.com/qYxUceU80e— We Are Ranchi (@WeAreRanchi) August 2, 2026
تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ انسٹاگرام میمز، طنزیہ ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل مواد کے ذریعے تعلیم میں اصلاحات اور احتساب کے مطالبات کو اجاگر کررہے ہیں۔
انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے بانی اپار گپتا کے مطابق یہ تحریک سیاسی رابطوں میں نسل در نسل تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی بحث پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
کارکن سونم وانگچک نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ طلبہ تحریک نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کیا ہے اور نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی کیمپ میں ایک خاموش لائبریری
انہوں نے کہا کہ یہ 2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت کے خلاف بڑے عوامی احتجاجوں میں سے ایک ہے۔ وانگچک نے دعویٰ کیا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے شروع ہونے والی تحریک بعد میں ایک بڑی حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوگئی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے مقدمات کے لیے تیز رفتار عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک ٹیکنالوجی ماہر کو ذمہ داری سونپی۔
Rahul Gandhi Speaks to Protesting Jharkhand Students Over the Phone
Rahul Gandhi expressed support for their movement and said the government would invite them to talks tomorrow. pic.twitter.com/2WcJktode6
— Desh Ka Verdict (@DeshKaVerdict) August 6, 2026
احتجاج کے دوران بھارتی ٹی وی میڈیا کے خلاف عوامی غصہ بھی سامنے آیا۔ مظاہرین نے بعض ٹی وی چینلز پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ خبروں کے لیے سوشل میڈیا اور آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کررہے ہیں۔
کئی ٹی وی صحافیوں نے نئی دہلی، ممبئی اور پٹنہ میں احتجاج کی کوریج کے دوران ہراساں کیے جانے کی شکایات بھی کیں۔ بعض میڈیا اداروں نے صحافیوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی کوریج کو غیر جانب دار قرار دیا ہے۔














