نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا نے سولر ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کرتے ہوئے 25 کلوواٹ تک کے سولر سسٹمز کیلئے لائسنس کی شرط ختم کر دی ہے۔
نئے فیصلے کے تحت اب ایسے صارفین کو نیپرا سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، جبکہ منظوری کا اختیار متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں، ڈسکوز کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لیے منظوری کا عمل آسان
نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سولر ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کے بعد 25 کلوواٹ تک کے سولر سسٹمز نصب کرنے والے صارفین کو نیپرا سے لائسنس یا پیشگی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، بلوں میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر
اس فیصلے کا مقصد سولر توانائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے منظوری کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانا ہے۔
ترمیم شدہ قواعد کے تحت اب 25 کلوواٹ تک کے سولر سسٹمز کی منظوری متعلقہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، ڈسکوز، جاری کریں گی اور درخواستوں پر براہ راست کارروائی کی جائے گی۔
اس سے صارفین کو غیر ضروری مراحل سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور درخواستوں کی تکمیل نسبتاً کم وقت میں ممکن ہوگی۔
نیپرا کا مؤقف
نیپرا کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرنا اور سولر صارفین کے لیے ریگولیٹری طریقہ کار کو زیادہ سہل بنانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین شمسی توانائی سے استفادہ کر سکیں۔
اس سے قبل فروری میں نیپرا نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے چھوٹے سولر صارفین پر فیس عائد کی تھی اور 25 کلوواٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے بھی نیپرا سے لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
اس فیصلے پر سیاسی جماعتوں، سولر صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
بعد ازاں وزیراعظم نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر توانائی کو لائسنس کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
وزارت توانائی کی سفارشات کی منظوری کے بعد نیپرا نے اب باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 25 کلوواٹ تک کے سولر سسٹمز کیلئے لائسنس کی شرط ختم کر دی ہے۔
جس سے ہزاروں صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی تنصیب اور منظوری کا عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو جائے گا۔














