انڈونیشیا کے جزیرۂ سوماترا میں 2 ہفتوں سے شہریوں پر اچانک حملے کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے ایک جنگلی بندر کو محکمہ ریسکیو اور جنگلی حیات کی ٹیموں نے بالآخر قابو کر لیا، جس کے بعد علاقے میں معمولاتِ زندگی بحال ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔
حکام کے مطابق بالغ لانگ ٹیلڈ مکاک نسل کے اس بندر نے سوماترا کے صوبہ ریاؤ کے شہر تمبیلاہان میں بچوں اور بزرگوں سمیت 18 افراد کو کاٹ کر اور پنجے مار کر زخمی کیا۔ ایک متاثرہ شخص پر اس نے دو مرتبہ حملہ کیا، جس کے باعث حملوں کی مجموعی تعداد 19 تک پہنچ گئی۔
تمبیلاہان فائر اینڈ ریسکیو سروس کے سربراہ جنیدی اسماعیل نے بتایا کہ متعدد زخمیوں کو ایک درجن سے زیادہ ٹانکے لگانے پڑے، جبکہ انہیں ریبیز سے بچاؤ کے انجیکشن بھی دیے گئے۔
بندر زندہ پکڑا گیا
حکام کے مطابق بندر کو جمعرات کے روز شہر میں نصب کیے گئے ایک خصوصی پنجرے کے ذریعے زندہ پکڑا گیا۔ ریسکیو ادارے کی جانب سے جاری ویڈیو میں بندر کو پنجرے میں موجود اور شدید دباؤ کا شکار دکھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بندر اور فوٹوگرافر کے بیچ سیلفی کی ملکیت کا جھگڑا، ’مدعی سست گواہ چست‘
شہری انتظامیہ کے عہدیدار آری سوریا نے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے یہ بندر اکیلا نہ ہو۔
انہوں نے کہا، ’امکان موجود ہے کہ علاقے میں دوسرے بندر بھی موجود ہوں جو لوگوں پر حملے کر سکتے ہیں، اس لیے شہری محتاط رہیں۔‘
40 اسکول تاحال بند
مسلسل حملوں کے باعث علاقے کے 40 اسکول جمعہ کے روز بھی بند رہے، جبکہ سینکڑوں طلبہ کو 3 دن تک آن لائن تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقامی حکومت کے مطابق اگر حالات محفوظ قرار دیے گئے تو اسکول آئندہ پیر سے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔
پکڑے گئے بندر کو مزید جانچ کے لیے صوبہ ریاؤ کے دارالحکومت پیکان بارو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں محکمہ تحفظِ فطرت کے ماہرین اس کے خون کے نمونے اور دیگر طبی معائنے کریں گے۔
محکمہ کے عہدیدار اوجانگ ہولیس الدین نے بتایا کہ معائنے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا بندر کسی متعدی بیماری، خصوصاً ریبیز، کا شکار تو نہیں۔
انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کیوں بڑھ رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ بارانی جنگلات کی کٹائی اور پام آئل کے باغات کے لیے جنگلی علاقوں کا سکڑنا ہے، جس سے بندروں، ہاتھیوں اور شیروں جیسے جانوروں کے قدرتی مسکن تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
جکارتہ کے قریب واقع آئی پی بی یونیورسٹی کی حیاتیات کی ماہر پوجی ریانتی کے مطابق بعض بندروں نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ انسانوں کے قریب رہ کر خوراک حاصل کرنا جنگل میں خوراک تلاش کرنے سے کہیں آسان ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگل میں خوراک تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے، جبکہ انسانی آبادی کے قریب رہ کر کھانا چرانا نسبتاً آسان ہے۔
ماہرہ نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ حملہ آور بندر شاید کبھی کسی کا پالتو جانور تھا، جسے بعد میں جنگل میں چھوڑ دیا گیا، جس کے باعث اس کا رویہ غیرمعمولی طور پر جارحانہ ہو گیا۔














