ایک بندر کی لی گئی سیلفی سے شروع ہونے والا غیر معمولی تنازع اب آرٹیفیشل انٹیلیجینس یا اے آئی کے دور میں تخلیق اور ملکیت کے بنیادی سوالات تک جا پہنچا ہے جس کے اثرات مستقبل میں میڈیا اور تفریحی صنعت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سنگاپور چڑیا گھر میں ماں سے چمٹے ننھے بن مانس کی دل موہ لینے والی ویڈیو وائرل
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ سنہ 2011 میں انڈونیشیا کے جنگلات میں پیش آیا جب برطانوی فوٹوگرافر ڈیوڈ سلیٹر کریسٹڈ بلیک مکاک بندروں کی تصاویر لینے کے لیے کیمرا ٹرائی پوڈ پر لگا کر چھوڑ گئے۔ بندروں نے کیمرے سے کھیلتے ہوئے شٹر بٹن دبا دیا اور ایک بندر نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی سیلفی بنا لی جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
یہ تصویر بعد میں وکی پیڈیا پر اپ لوڈ ہونے کے بعد قانونی تنازع کا باعث بنی جب یہ سوال اٹھا کہ اگر تصویر کسی انسان نے نہیں بنائی تو اس کی ملکیت کس کی ہے۔
وکی میڈیا فاؤنڈیشن نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ تصویر انسان نے نہیں لی اس لیے یہ پبلک ڈومین میں آتی ہے۔ معاملہ بعد میں امریکی کاپی رائٹ آفس تک پہنچا جس نے واضح کیا کہ غیر انسانی تخلیقات کو کاپی رائٹ تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔
’مدعی سست گواہ چست‘
بعد ازاں جانوروں کے حقوق کی تنظیم ’پیٹا‘ نے بندر کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی تاہم عدالت نے اسے یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ جانور قانونی طور پر مقدمہ دائر نہیں کر سکتے۔
مزید پڑھیے: زخمی بن مانس ایک دوسرے کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ 30 سالہ تحقیق کے بعد حیران کن انکشاف
یہی قانونی بحث بعد میں اس وقت دوبارہ سامنے آئی جب کمپیوٹر سائنسدان اسٹیفن تھیلر نے اپنی اے آئی سسٹم ’ڈابُس‘ کے ذریعے بنائی گئی ایک تصویر کے کاپی رائٹ کا دعویٰ کیا۔
امریکی کاپی رائٹ آفس نے یہاں بھی وہی مؤقف اپنایا کہ اگر تخلیق انسان کی نہیں تو اس کی ملکیت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
ملکیت کا نیا جھگڑا
ماہرین کے مطابق یہ فیصلے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مکمل طور پر اے آئی یا غیر انسانی نظام سے بننے والے مواد کی ملکیت کسی فرد یا ادارے کے پاس نہیں ہو سکتی جو مستقبل میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروباری ماڈل کو متاثر کر سکتا ہے۔
What happens when something that isn't human makes art? A series of bizarre court battles trying to answer that question have centred around this image. Ultimately it will change what ends up on your screens and headphones forever.
— Ashis Basu 🇨🇦 ashis.bluesky.social (@BasuAshis) April 15, 2026
برطانیہ میں اگرچہ قوانین نسبتاً مختلف ہیں اور وہاں بعض صورتوں میں مشین سے بننے والے مواد کی ملکیت اس شخص کو دی جا سکتی ہے جو اس کے تخلیقی عمل کو ترتیب دیتا ہے تاہم اس نظام پر بھی اب نظر ثانی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال اب یہ ہے کہ انسانی اور مشینی تخلیق کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے کیونکہ یہی فیصلہ آنے والے برسوں میں یہ طے کرے گا کہ اے آئی دور میں تخلیقی مواد کا مالک کون ہوگا۔














