آسٹریلیا نے کیمروں سے لیس اسمارٹ چشموں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے رازداری قوانین متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آسٹریلیا کی رازداری کمشنر کارلی کِنڈ نے خبردار کیا ہے کہ میٹا کے رے بینز اور دیگر اسمارٹ چشموں کا بڑھتا استعمال کمزور طبقات کی نگرانی اور ان کی نجی معلومات کے غلط استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا پھر اسمارٹ چشمے لانے کا اعلان، کیا یہ کاوش کامیاب ہوجائے گی؟
انہوں نے کہا کہ اسمارٹ چشمے، جن میں مستقبل میں گوگل اور ایپل کی مصنوعات بھی شامل ہوسکتی ہیں، نجی اور عوامی مقامات پر لوگوں کے باہمی تعلقات کے انداز کو بنیادی طور پر تبدیل کرسکتے ہیں اور افراد کے رازداری کے انتخاب کو متاثر کرسکتے ہیں۔
View this post on Instagram
کارلی کِنڈ کے مطابق اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں نگرانی کرنے والے آلات کے ذریعے حاصل ہونے والی ذاتی معلومات کو جمع اور محفوظ کرتی ہیں تو انہیں رازداری کے قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
انہوں نے کہا کہ موجودہ رازداری قانون میں ایسی ذاتی معلومات شامل نہیں جو افراد اپنی نجی سرگرمیوں کے دوران خود جمع کرتے ہیں، جس کے باعث مقامی طور پر محفوظ کیے گئے ڈیٹا کو موجودہ قوانین کے دائرے سے باہر رہنے کا خطرہ ہے۔
آسٹریلیا کی اٹارنی جنرل مشیل رولینڈ نے بھی اسمارٹ چشموں کے باعث رازداری کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی بچوں اور خواتین کو خاص طور پر متاثر کرسکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نامناسب ریکارڈنگ، ہراسانی، نگرانی یا دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کا خدشہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
انہوں نے کہا کہ رازداری ہر فرد کی زندگی کا بنیادی حصہ ہے، جو لوگوں کو عزت اور تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیتی ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے بتایا کہ وہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق رازداری قوانین میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جن کے تحت ذاتی معلومات کے حصول اور استعمال کو منصفانہ اور مناسب ثابت کرنا ہوگا جبکہ رضامندی اور مقام سے متعلق معلومات کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔













