ایران میں حکومت کی تبدیلی کا خفیہ آپریشنل پلان ناکام ہونے کے بعد اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور ایران ڈویژن کے سربراہ سمیت 2 اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
ناکام حکمت عملی اور اعلیٰ سطح پر برطرفیاں
اسرائیلی میڈیا نیٹ ورک چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق موساد کے سربراہ کا مؤقف تھا کہ جو لوگ اس منصوبہ بندی کے معمار اور نگران تھے، انہیں اس ناکامی کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
برطرف کیے گئے یہ دونوں سینیئر عہدیدار اس متنازع آپریشنل پلان کی تشکیل اور عمل درآمد میں براہ راست ملوث تھے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔
یہ حکمت عملی ایران کے اندر بعض اقلیتی گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ پر مبنی تھی تاکہ ملک میں نظام کی تبدیلی لائی جا سکے، تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔
پس منظر اور داخلی کشیدگی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موساد کے چیف اور دونوں برطرف افسران کے درمیان تعلقات آغاز سے ہی کشیدہ تھے اور اگرچہ ان کی رخصتی باہمی رضامندی سے طے پائی، لیکن اس فیصلے کا وقت غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ یہ دونوں اس ناکام منصوبے کے بنیادی خالق تھے۔
واضح رہے کہ اس اعلیٰ سطح کی برطرفی سے اسرائیلی انٹیلی جنس کے اندرونی حلقوں میں پایا جانے والا تناؤ اور ایران کے خلاف خفیہ حکمت عملیوں میں آنے والی رکاوٹیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں، جو خطے کی موجودہ صورتحال میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
مزید پڑھیں:موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام، بحرین میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر گرفتار
ایران اور اسرائیل کے درمیان برسوں سے انٹیلی جنس، سیکیورٹی اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے شدید کشیدگی چلی آ رہی ہے۔
دونوں ممالک ایک دوسرے پر خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں اور اپنے مفادات کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
تاہم ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق مبینہ منصوبے اور اس کے نتیجے میں موساد کے اندر ہونے والی ان برطرفیوں کے بارے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔














